سنن ابي داود
أبواب السلام— ابواب: السلام علیکم کہنے کے آداب
باب فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ باب: سانپوں کو مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5254
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ ابْنَ عُمَرَ وَجَدَ بَعْدَ ذَلِكَ يَعْنِي بَعْد مَا حَدَّثَهُ أَبُو لُبابةَ , حَيَّةً فِي دَارِهِ , فَأَمَرَ بِهَا , فَأُخْرِجَتْ يَعْنِي إِلَى الْبَقِيعِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نافع سے روایت ہے کہ` ابن عمر رضی اللہ عنہما نے لبابہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سننے کے بعد ایک سانپ اپنے گھر میں پایا ، تو اسے ( باہر کرنے کا ) حکم دیا تو وہ بقیع کی طرف بھگا دیا گیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سانپوں کو مارنے کا بیان۔`
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے لبابہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سننے کے بعد ایک سانپ اپنے گھر میں پایا، تو اسے (باہر کرنے کا) حکم دیا تو وہ بقیع کی طرف بھگا دیا گیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5254]
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے لبابہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سننے کے بعد ایک سانپ اپنے گھر میں پایا، تو اسے (باہر کرنے کا) حکم دیا تو وہ بقیع کی طرف بھگا دیا گیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5254]
فوائد ومسائل:
صحابہ کرام رضی اللہ کی سب سے بڑی فضیلت یہی تھی کہ وہ فرمان رسول ﷺمعلوم ہو جانے کے بعد اس سے کسی طرح سرتابی کرتے تھے اور تمام اصحاب ایمان کو ایسے ہونا چاہیے۔
صحابہ کرام رضی اللہ کی سب سے بڑی فضیلت یہی تھی کہ وہ فرمان رسول ﷺمعلوم ہو جانے کے بعد اس سے کسی طرح سرتابی کرتے تھے اور تمام اصحاب ایمان کو ایسے ہونا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5254 سے ماخوذ ہے۔