سنن ابي داود
أبواب السلام— ابواب: السلام علیکم کہنے کے آداب
باب فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ باب: سانپوں کو مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5253
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ أَبِي لُبابةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ , فَإِنَّهُمَا يَخْطِفَانِ الْبَصَرَ وَيَطْرَحَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو مارنے سے روکا ہے جو گھروں میں ہوتے ہیں مگر یہ کہ دو منہ والا ہو ، یا دم کٹا ہو ( یہ دونوں بہت خطرناک ہیں ) کیونکہ یہ دونوں نگاہ کو اچک لیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ میں جو ( بچہ ) ہوتا ہے اسے گرا دیتے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سانپوں کو مارنے کا بیان۔`
ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو مارنے سے روکا ہے جو گھروں میں ہوتے ہیں مگر یہ کہ دو منہ والا ہو، یا دم کٹا ہو (یہ دونوں بہت خطرناک ہیں) کیونکہ یہ دونوں نگاہ کو اچک لیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ میں جو (بچہ) ہوتا ہے اسے گرا دیتے ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5253]
ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سانپوں کو مارنے سے روکا ہے جو گھروں میں ہوتے ہیں مگر یہ کہ دو منہ والا ہو، یا دم کٹا ہو (یہ دونوں بہت خطرناک ہیں) کیونکہ یہ دونوں نگاہ کو اچک لیتے ہیں اور عورتوں کے پیٹ میں جو (بچہ) ہوتا ہے اسے گرا دیتے ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5253]
فوائد ومسائل:
بالخصوص مدینہ منورہ کے متعلق یہ وارد ہے کہ وہاں گھروں میں جن رہتے تھے جو سانپوں کی شکل میں موقع بموقع نمودارہوتے رہتے تھے، لیکن گھروالوں کو کوئی اذیت نہ دیتے تھے، اس لیے باقی مقامات پر بھی اگر کہیں ایسی صورت ہو کہ سانپ موقع بموقع نظر آکر غائب ہوجاتا ہو تو وہ غالبا جن ہو سکتا ہے، اس لئے اس کو مارنے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے بلکہ تین بار اسے زبان میں تنبیہ کرنی چاہیے کہ وہ یہاں سے چلا جائے۔
اگر اس کے بعد دکھائی دے تو مار دیا جائے۔
جیسے کہ اگلی احادیث میں آرہا ہے۔
بالخصوص مدینہ منورہ کے متعلق یہ وارد ہے کہ وہاں گھروں میں جن رہتے تھے جو سانپوں کی شکل میں موقع بموقع نمودارہوتے رہتے تھے، لیکن گھروالوں کو کوئی اذیت نہ دیتے تھے، اس لیے باقی مقامات پر بھی اگر کہیں ایسی صورت ہو کہ سانپ موقع بموقع نظر آکر غائب ہوجاتا ہو تو وہ غالبا جن ہو سکتا ہے، اس لئے اس کو مارنے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے بلکہ تین بار اسے زبان میں تنبیہ کرنی چاہیے کہ وہ یہاں سے چلا جائے۔
اگر اس کے بعد دکھائی دے تو مار دیا جائے۔
جیسے کہ اگلی احادیث میں آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5253 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3311 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3311. لیکن اس کے بعد میں جب حضرت ابولبانہ ؓسے ملا تو انھوں نے مجھے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’سفید سانپوں کومت مارو، ان کے علاوہ ہر دم کٹا، دو دھاری سانپ مار ڈالو کیونکہ وہ حمل گرادیتا ہے اور بینائی کو ختم کردیتا ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3311]
حدیث حاشیہ: پہلے جو حدیث گزری اس میں دھاریوں والے، اور بے دم کے سانپ کو مارنے کا حکم فرمایا۔
یہاں بھی اس کے مارنے کا حکم دیا جس میں یہ دونوں باتیں موجود ہوں وہ اور بھی زیادہ زہریلا ہوگا۔
یہ حدیث اگلی حدیث کے خلاف نہیں ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جس سانپ میں ان دونوں میں سے کوئی صفت یا دونوں صفتیں پائی جائیں اس کو مارڈالو (وحیدی)
یہاں بھی اس کے مارنے کا حکم دیا جس میں یہ دونوں باتیں موجود ہوں وہ اور بھی زیادہ زہریلا ہوگا۔
یہ حدیث اگلی حدیث کے خلاف نہیں ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جس سانپ میں ان دونوں میں سے کوئی صفت یا دونوں صفتیں پائی جائیں اس کو مارڈالو (وحیدی)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3311 سے ماخوذ ہے۔