حدیث نمبر: 5251
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ , عَنْ مُوسَى الطَّحَّانِ , قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ , عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ , أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَكْنُسَ زَمْزَمَ وَإِنَّ فِيهَا مِنْ هَذِهِ الْجِنَّانِ , يَعْنِي الْحَيَّاتِ الصِّغَارَ , فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِنَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : ہم زمزم کے آس پاس کی جگہ کو ( جھاڑو دے کر ) صاف ستھرا کر دینا چاہتے ہیں وہاں ان چھوٹے سانپوں میں سے کچھ رہتے ہیں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مار ڈالنے کا حکم دیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب السلام / حدیث: 5251
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح إن كان ابن سابط سمع من العباس , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, مروان بن معاوية عنعن وفي سماع عبد الرحمٰن بن سابط من عباس نظر, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 182
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5133) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سانپوں کو مارنے کا بیان۔`
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ہم زمزم کے آس پاس کی جگہ کو (جھاڑو دے کر) صاف ستھرا کر دینا چاہتے ہیں وہاں ان چھوٹے سانپوں میں سے کچھ رہتے ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مار ڈالنے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5251]
فوائد ومسائل:
سانپ اور موذی جانوروں کو حرم میں بھی قتل کرنے کا حکم ہے، خواہ انسان حالت احرام میں بھی ہو۔
بعض حضرات نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5251 سے ماخوذ ہے۔