سنن ابي داود
أبواب السلام— ابواب: السلام علیکم کہنے کے آداب
باب فِي قَتْلِ الْحَيَّاتِ باب: سانپوں کو مارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5248
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ , وَمَنْ تَرَكَ شَيْئًا مِنْهُنَّ خِيفَةً , فَلَيْسَ مِنَّا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب سے ہماری سانپوں سے لڑائی شروع ہوئی ہے ہم نے کبھی ان سے صلح نہیں کی ( سانپ ہمیشہ سے انسان کا دشمن رہا ہے ، اس کا پالنا اور پوسنا کبھی درست نہیں ) جو شخص کسی بھی سانپ کو ڈر کر مارنے سے چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 1190 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
1190- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”ہم نے ان سے لڑائی شروع کی ہے ہم نے ان کے ساتھ صلح نہیں کی ہے اور جو شخص ان سے ڈرتے ہوئے ان میں سے کسی ایک شخص کو چھوڑ دے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سانپ تھے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1190]
فائدہ:
اس حدیث میں سانپ کے مارنے کا حکم دیا گیا ہے، کہ جہاں اس کو دیکھو، اس کو مار دو، خواہ وہ حرم میں بھی کیوں نہ ہو، مدینہ منورہ میں بعض سانپ موجود تھے، تو ان کے مارنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا، لیکن بعد میں عام حکم دیا کہ جہاں کوئی سانپ ہے اس کو مار دو، اب یہی حکم ہے، نہ مارنے والا حکم منسوخ ہے۔
اس حدیث میں سانپ کے مارنے کا حکم دیا گیا ہے، کہ جہاں اس کو دیکھو، اس کو مار دو، خواہ وہ حرم میں بھی کیوں نہ ہو، مدینہ منورہ میں بعض سانپ موجود تھے، تو ان کے مارنے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا، لیکن بعد میں عام حکم دیا کہ جہاں کوئی سانپ ہے اس کو مار دو، اب یہی حکم ہے، نہ مارنے والا حکم منسوخ ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1188 سے ماخوذ ہے۔