حدیث نمبر: 5247
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّمَّارُ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ , حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : " جَاءَتْ فَأْرَةٌ فَأَخَذَتْ تَجُرُّ الْفَتِيلَةَ , فَجَاءَتْ بِهَا فَأَلْقَتْهَا بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُمْرَةِ الَّتِي كَانَ قَاعِدًا عَلَيْهَا , فَأَحْرَقَتْ مِنْهَا مِثْلَ مَوْضِعِ الدِّرْهَمِ , فَقَالَ : إِذَا نِمْتُمْ , فَأَطْفِئُوا سُرُجَكُمْ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدُلُّ مِثْلَ هَذِهِ عَلَى هَذَا فَتُحْرِقَكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک چوہیا آئی اور چراغ کی بتی کو پکڑ کر کھینچتی ہوئی لائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس چٹائی پر ڈال دیا جس پر آپ بیٹھے تھے اور درہم کے برابر جگہ جلا دی ، ( یہ دیکھ کر ) آپ نے فرمایا : ” جب سونے لگو تو اپنے چراغوں کو بجھا دیا کرو ، کیونکہ شیطان چوہیا جیسی چیزوں کو ایسی باتیں سجھاتا ہے تو وہ تم کو جلا دیتی ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب السلام / حدیث: 5247
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سلسلة سماك عن عكرمة ضعيفة, وحديث البخاري (6294،6296) ومسلم (2016) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 181
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6114) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´رات میں آگ (چراغ) بجھا کر سونے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک چوہیا آئی اور چراغ کی بتی کو پکڑ کر کھینچتی ہوئی لائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس چٹائی پر ڈال دیا جس پر آپ بیٹھے تھے اور درہم کے برابر جگہ جلا دی، (یہ دیکھ کر) آپ نے فرمایا: جب سونے لگو تو اپنے چراغوں کو بجھا دیا کرو، کیونکہ شیطان چوہیا جیسی چیزوں کو ایسی باتیں سجھاتا ہے تو وہ تم کو جلا دیتی ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5247]
فوائد ومسائل:

ہمارے فاضل محقق اس روایت کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ روایت سند ا ضعیف ہے، البتہ صحیح بخاری (الحدیث٢٣٩٤‘٢٦٩٥) اور صحيح مسلم (حديث٢ه١٦) کی روایات اس سے کفایت کرتی ہیں۔
لہذا معلوم ہوا کہ یہ روایت ہمارے محقق کے نزدیک معنا صحیح ہے۔
علاوہ ازیں شیخ النانی ؒ نے اسی روایت کو صحیح قراردیا ہے۔

2: رات کو سوتے وقت بالخصوص آگ، کوئلے والی انگھیٹی، گیس یا بجلی کے چولہے اور ہیٹر اور پرانے بتی والے چراغ بجھا کر سونا چاہیے ورنہ نقصان ہو سکتا ہے۔
جیسے کہ اخبارا ت میں اس قسم کی خبریں بکثرت سننے بڑھنے میں آتی رہتی ہیں ایسے ہی احتیاط کا تقاضا ہے کہ بجلی کے بلب بھی گل کیے ہوں تو زیادہ بہتر ہے، کیونکہ بجلی بھی آگ کی ایک قسم ہے، نیز اندھیرے میں سونا طبی اعتبار سے بھی بہت زیادہ مفید ہوتا ہے۔

3: اس قسم کے حادثات میں درحقیقت شیطانی حرکت کا عمل دخل ہوا کرتا ہے۔
اس لیے اس شرسے ہمیشہ اللہ کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5247 سے ماخوذ ہے۔