سنن ابي داود
أبواب السلام— ابواب: السلام علیکم کہنے کے آداب
باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ فُلاَنٌ يُقْرِئُكَ السَّلاَمَ باب: آدمی کا یہ کہنا کہ فلاں تمہیں سلام کہہ رہا ہے تو جواب میں کیا کہے؟
حدیث نمبر: 5231
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل , عَنْ غَالِبٍ , قَالَ : إِنَّا لَجُلُوسٌ بِباب الْحَسَنِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ , فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ جَدِّي , قَالَ : " بَعَثَنِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : ائْتِهِ , فَأَقْرِئْهُ السَّلَامَ , قَالَ : فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ : إِنَّ أَبِي يُقْرِئُكَ السَّلَامَ , فَقَالَ : عَلَيْكَ السَّلَامُ وَعَلَى أَبِيكَ السَّلَامُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´غالب کہتے ہیں کہ` ہم حسن کے دروازے پر بیٹھے تھے اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا : میرے باپ نے میرے دادا سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں : مجھے میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور کہا : ” آپ کے پاس جاؤ اور آپ کو میرا سلام کہو “ میں آپ کے پاس گیا اور عرض کیا : میرے والد آپ کو سلام کہتے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” تم پر اور تمہارے والد پر بھی سلام ہو “ ۔