سنن ابي داود
أبواب السلام— ابواب: السلام علیکم کہنے کے آداب
باب فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِلرَّجُلِ حَفِظَكَ اللَّهُ باب: آدمی کسی کو «حفظك الله» ”اللہ تم کو اپنی حفاظت میں رکھے“ کہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 5228
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ فِي سَفَرٍ لَهُ , فَعَطِشُوا , فَانْطَلَقَ سَرْعَانُ النَّاسِ , فَلَزِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ , فَقَالَ : حَفِظَكَ اللَّهُ بِمَا حَفِظْتَ بِهِ نَبِيَّهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن رباح انصاری کہتے ہیں کہ` ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا کہ : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں تھے ، لوگ پیاسے ہوئے تو جلدباز لوگ آگے نکل گئے ، لیکن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی اس رات رہا ( آپ کو چھوڑ کر نہ گیا ) تو آپ نے فرمایا : ” اللہ تیری حفاظت فرمائے جس طرح تو نے اس کے نبی کی حفاظت کی ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آدمی کسی کو «حفظك الله» ”اللہ تم کو اپنی حفاظت میں رکھے“ کہے اس کا بیان`
عبداللہ بن رباح انصاری کہتے ہیں کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا کہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں تھے، لوگ پیاسے ہوئے تو جلدباز لوگ آگے نکل گئے، لیکن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی اس رات رہا (آپ کو چھوڑ کر نہ گیا) تو آپ نے فرمایا: ” اللہ تیری حفاظت فرمائے جس طرح تو نے اس کے نبی کی حفاظت کی ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5228]
عبداللہ بن رباح انصاری کہتے ہیں کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا کہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک سفر میں تھے، لوگ پیاسے ہوئے تو جلدباز لوگ آگے نکل گئے، لیکن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی اس رات رہا (آپ کو چھوڑ کر نہ گیا) تو آپ نے فرمایا: ” اللہ تیری حفاظت فرمائے جس طرح تو نے اس کے نبی کی حفاظت کی ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5228]
فوائد ومسائل:
یہ مفصل حدیث صحیح مسلم میں موجود ہے (صحیح مسلم، المساجد، حدیث:٢٨١) حضرت ابو قتادہ رضی اللہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدس کی حفاظت پر آپ کی طرف سے دعاملی ہے تو امید رکھنی چاہیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہو ئی شریعت اور آپ کی احادیث کی حفاظت پر یہ بھی فضلیت مل سکتی ہے جیسے کہ دوسری حدیث میں صراحت سے آیاہے اللہ خوش وخرم رکھے اس بندے کو جس نے میری بات سنی، اسے یاد رکھا اور اسی طرح آگے پہنچا دیا جس طرح کہ اسے سنا۔
(جامع الترمذي‘ العلم‘ حدیث:2658)
یہ مفصل حدیث صحیح مسلم میں موجود ہے (صحیح مسلم، المساجد، حدیث:٢٨١) حضرت ابو قتادہ رضی اللہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدس کی حفاظت پر آپ کی طرف سے دعاملی ہے تو امید رکھنی چاہیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہو ئی شریعت اور آپ کی احادیث کی حفاظت پر یہ بھی فضلیت مل سکتی ہے جیسے کہ دوسری حدیث میں صراحت سے آیاہے اللہ خوش وخرم رکھے اس بندے کو جس نے میری بات سنی، اسے یاد رکھا اور اسی طرح آگے پہنچا دیا جس طرح کہ اسے سنا۔
(جامع الترمذي‘ العلم‘ حدیث:2658)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5228 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3434 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ساقی (پلانے والا) سب سے آخر میں پیئے۔`
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قوم کا ساقی (پلانے والا) سب سے آخر میں پیتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3434]
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قوم کا ساقی (پلانے والا) سب سے آخر میں پیتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأشربة/حدیث: 3434]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
یہ چیز آداب میں شامل ہے۔
کہ خود آخر میں پیے اسی طرح کوئی چیز تقسیم کرے تو سب سے آخر میں حصہ لے۔
تاہم ایسا کرنا واجب نہیں۔
فوائد و مسائل:
یہ چیز آداب میں شامل ہے۔
کہ خود آخر میں پیے اسی طرح کوئی چیز تقسیم کرے تو سب سے آخر میں حصہ لے۔
تاہم ایسا کرنا واجب نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3434 سے ماخوذ ہے۔