سنن ابي داود
أبواب السلام— ابواب: السلام علیکم کہنے کے آداب
باب فِي قُبْلَةِ الْجَسَدِ باب: جسم کے کسی حصے کو چومنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ , أَخْبَرَنَا خَالِدٌ , عَنْ حُصَيْنٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ , قال : " يُحَدِّثُ الْقَوْمَ وَكَانَ فِيهِ مِزَاحٌ بَيْنَا يُضْحِكُهُمْ , فَطَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَاصِرَتِهِ بِعُودٍ , فَقَالَ : أَصْبِرْنِي , فَقَالَ : اصْطَبِرْ , قَالَ : إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا وَلَيْسَ عَلَيَّ قَمِيصٌ , فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَمِيصِهِ , فَاحْتَضَنَهُ وَجَعَلَ يُقَبِّلُ كَشْحَهُ , قَالَ : إِنَّمَا أَرَدْتُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ " .
´اسید بن حضیرانصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` وہ کچھ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے اور وہ مسخرے والے آدمی تھے لوگوں کو ہنسا رہے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوکھ میں لکڑی سے ایک کونچہ دیا ، تو وہ بولے : اللہ کے رسول ! مجھے اس کا بدلہ دیجئیے ، آپ نے فرمایا : ” بدلہ لے لو “ تو انہوں نے کہا : آپ تو قمیص پہنے ہوئے ہیں میں تو ننگا تھا ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اٹھا دی ، تو وہ آپ سے چمٹ گئے ، اور آپ کے پہلو کے بوسے لینے لگے ، اور کہنے لگے : اللہ کے رسول ! میرا منشأ یہی تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اسید بن حضیرانصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ کچھ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے اور وہ مسخرے والے آدمی تھے لوگوں کو ہنسا رہے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوکھ میں لکڑی سے ایک کونچہ دیا، تو وہ بولے: اللہ کے رسول! مجھے اس کا بدلہ دیجئیے، آپ نے فرمایا: ” بدلہ لے لو “ تو انہوں نے کہا: آپ تو قمیص پہنے ہوئے ہیں میں تو ننگا تھا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اٹھا دی، تو وہ آپ سے چمٹ گئے، اور آپ کے پہلو کے بوسے لینے لگے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میرا منشأ یہی تھا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5224]
1- رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنه بڑی فرحت افزا زندگی گزارتے تھے۔
دینی امور کی انتہائی پابندی کے باوجود ان میں کہیں تندی، کرختگی یا خشکی والی کیفیات نہ تھیں۔
2: باوجود یہ کہ ہنسی مزاح جائز ہے، مگر شریعت نے اجازت نہیں دی کہ اس کیفیت میں بھی کسی پر زیادتی ہو۔
3: ظلم وزیادتی، خواہ مزاح میں ہو شرعًا اس میں قصاص ہے۔
4: صحابہ کرام رضی اللہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ کو اپنے صحابہ سے ازحد پیار ومحبت تھی۔
5: اپنی محبوب ومحترم شخصیت کے ہاتھ یا جسم کو بوسہ دینا جائز ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تو کوئی ثانی نہیں تھا۔