سنن ابي داود
أبواب السلام— ابواب: السلام علیکم کہنے کے آداب
باب فِي قُبْلَةِ الْيَدِ باب: ہاتھ چومنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5223
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ , أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَهُ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ , وَذَكَرَ قِصَّةً , قَالَ : " فَدَنَوْنَا , يَعْنِي مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَبَّلْنَا يَدَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کا بیان ہے کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا اور راوی نے ایک واقعہ ذکر کیا ، اس میں ہے : تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوئے اور ہم نے آپ کے ہاتھ کو بوسہ دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ہاتھ چومنے کا بیان۔`
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا اور راوی نے ایک واقعہ ذکر کیا، اس میں ہے: تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوئے اور ہم نے آپ کے ہاتھ کو بوسہ دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5223]
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا اور راوی نے ایک واقعہ ذکر کیا، اس میں ہے: تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوئے اور ہم نے آپ کے ہاتھ کو بوسہ دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5223]
فوائد ومسائل:
یہ روایت تو ضعیف ہے اور تفصیلی قصہ پیچھے حدیث٢٦٤٧میں گزر چکا ہے، لیکن مسئلہ یہی ہے کہ اکرام وتعظیم میں دوسرے کے ہاتھ یا جسم کو بوسہ دینا جائز ہے، جیسے کہ درج ذیل حدیث میں آرہا ہے۔
یہ روایت تو ضعیف ہے اور تفصیلی قصہ پیچھے حدیث٢٦٤٧میں گزر چکا ہے، لیکن مسئلہ یہی ہے کہ اکرام وتعظیم میں دوسرے کے ہاتھ یا جسم کو بوسہ دینا جائز ہے، جیسے کہ درج ذیل حدیث میں آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5223 سے ماخوذ ہے۔