حدیث نمبر: 5223
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ , أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَهُ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ , وَذَكَرَ قِصَّةً , قَالَ : " فَدَنَوْنَا , يَعْنِي مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَبَّلْنَا يَدَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کا بیان ہے کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا اور راوی نے ایک واقعہ ذکر کیا ، اس میں ہے : تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوئے اور ہم نے آپ کے ہاتھ کو بوسہ دیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب السلام / حدیث: 5223
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (3704) و تقدم (2647), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 180
تخریج حدیث « انظر حدیث رقم (2647)، (تحفة الأشراف: 7298) (ضعیف) » (اس کے راوی یزید بن ابی زیاد ضعیف ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ہاتھ چومنے کا بیان۔`
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا اور راوی نے ایک واقعہ ذکر کیا، اس میں ہے: تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوئے اور ہم نے آپ کے ہاتھ کو بوسہ دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5223]
فوائد ومسائل:
یہ روایت تو ضعیف ہے اور تفصیلی قصہ پیچھے حدیث٢٦٤٧میں گزر چکا ہے، لیکن مسئلہ یہی ہے کہ اکرام وتعظیم میں دوسرے کے ہاتھ یا جسم کو بوسہ دینا جائز ہے، جیسے کہ درج ذیل حدیث میں آرہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5223 سے ماخوذ ہے۔