سنن ابي داود
أبواب السلام— ابواب: السلام علیکم کہنے کے آداب
باب فِي قُبْلَةِ الْخَدِّ باب: گال چومنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5222
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَالِمٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ الْبَرَاءِ , قَالَ : " دَخَلْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ أَوَّلَ مَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ , فَإِذَا عَائِشَةُ ابْنَتُهُ مُضْطَجِعَةٌ , قَدْ أَصَابَتْهَا حُمَّى , فَأَتَاهَا أَبُو بَكْرٍ , فَقَالَ لَهَا كَيْفَ أَنْتِ يَا بُنَيَّةُ ؟ وَقَبَّلَ خَدَّهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا ، پہلے پہل جب وہ مدینہ آئے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان کی بیٹی عائشہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی ہیں اور انہیں بخار چڑھا ہوا ہے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے ، ان سے کہا : کیا حال ہے بیٹی ؟ اور ان کے رخسار کو چوما ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´گال چومنے کا بیان۔`
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا، پہلے پہل جب وہ مدینہ آئے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان کی بیٹی عائشہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی ہیں اور انہیں بخار چڑھا ہوا ہے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، ان سے کہا: کیا حال ہے بیٹی؟ اور ان کے رخسار کو چوما۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5222]
براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا، پہلے پہل جب وہ مدینہ آئے تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان کی بیٹی عائشہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی ہیں اور انہیں بخار چڑھا ہوا ہے تو ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، ان سے کہا: کیا حال ہے بیٹی؟ اور ان کے رخسار کو چوما۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5222]
فوائد ومسائل:
باپ اپنی بیٹی کو رخسار پر بوسہ دے تو کوئی معیوب بات نہیں ہے۔
باپ اپنی بیٹی کو رخسار پر بوسہ دے تو کوئی معیوب بات نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5222 سے ماخوذ ہے۔