حدیث نمبر: 5221
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ , عَنْ إِيَاسِ بْنِ دَغْفَلٍ , قَالَ : " رَأَيْتُ أَبَا نَضْرَةَ قَبَّلَ خَدَّ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَام " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ایاس بن دغفل کہتے ہیں کہ` میں نے ابونضرہ کو دیکھا انہوں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے گال پر بوسہ دیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب السلام / حدیث: 5221
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد مقطوع , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19493) (صحیح الإسناد) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´گال چومنے کا بیان۔`
ایاس بن دغفل کہتے ہیں کہ میں نے ابونضرہ کو دیکھا انہوں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے گال پر بوسہ دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5221]
فوائد ومسائل:
اظہار ومحبت میں جہاں کوئی شبہے والی بات نہ ہو، دوسرے کے بچے کے رخسار پر بھی بوسہ دیا جا سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5221 سے ماخوذ ہے۔