سنن ابي داود
أبواب السلام— ابواب: السلام علیکم کہنے کے آداب
باب فِي قُبْلَةِ مَا بَيْنَ الْعَيْنَيْنِ باب: آنکھوں کے درمیان بوسہ لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5220
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ أَجْلَحَ , عَنْ الشَّعْبِيِّ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَقَّى جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ , فَالْتَزَمَهُ وَقَبَّلَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´شعبی سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ملے تو انہیں چمٹا لیا ( معانقہ کیا ) اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آنکھوں کے درمیان بوسہ لینے کا بیان۔`
شعبی سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ملے تو انہیں چمٹا لیا (معانقہ کیا) اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5220]
شعبی سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ملے تو انہیں چمٹا لیا (معانقہ کیا) اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5220]
فوائد ومسائل:
اس سے بڑے آدمی کو بوسہ دینے کا اثبات نہیں ہوتا، اس لئے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔
اس سے بڑے آدمی کو بوسہ دینے کا اثبات نہیں ہوتا، اس لئے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5220 سے ماخوذ ہے۔