حدیث نمبر: 5220
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ , عَنْ أَجْلَحَ , عَنْ الشَّعْبِيِّ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَقَّى جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ , فَالْتَزَمَهُ وَقَبَّلَ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´شعبی سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ملے تو انہیں چمٹا لیا ( معانقہ کیا ) اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب السلام / حدیث: 5220
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, السند مرسل كما قال البيهقي (101/7), وللحديث طرق ضعيفة, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 180
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18853) (ضعیف) » (شعبی تابعی ہیں، اس لئے یہ روایت مرسل ہے)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : معجم صغير للطبراني: 827

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آنکھوں کے درمیان بوسہ لینے کا بیان۔`
شعبی سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے ملے تو انہیں چمٹا لیا (معانقہ کیا) اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5220]
فوائد ومسائل:
اس سے بڑے آدمی کو بوسہ دینے کا اثبات نہیں ہوتا، اس لئے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5220 سے ماخوذ ہے۔