حدیث نمبر: 5213
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ : " لَمَّا جَاءَ أَهْلُ الْيَمَنِ , قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ جَاءَكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ , وَهُمْ أَوَّلُ مَنْ جَاءَ بِالْمُصَافَحَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` جب یمن کے لوگ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے پاس یمن کے لوگ آئے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے مصافحہ کرنا شروع کیا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب السلام / حدیث: 5213
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح إلا أن قوله وهم أول مدرج فيه من قول أنس , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, حميد عنعن لكنه كان يدلس عن ثابت البناني عن أنس رضي الله عنه وثابت البناني ثقة
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 623)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/212، 251) (صحیح) » ( «وهم أول من ... » کا جملہ انس کا اپنا قول مدرج ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مصافحہ کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یمن کے لوگ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے پاس یمن کے لوگ آئے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے مصافحہ کرنا شروع کیا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5213]
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف ہے۔
علاوہ ازیں اس روایت کا دوسرا جملہ حضرت انس رضی اللہ کی طرف سے مدرج ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5213 سے ماخوذ ہے۔