حدیث نمبر: 52
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْكُوفِيُّ الْحَاسِبُ ، حَدَّثَنِي كَثِيرٌ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ فَيُعْطِينِي السِّوَاكَ لِأَغْسِلَهُ ، فَأَبْدَأُ بِهِ فَأَسْتَاكُ ، ثُمَّ أَغْسِلُهُ وَأَدْفَعُهُ إِلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر کے مجھے دھونے کے لیے دیتے تو میں خود اس سے مسواک شروع کر دیتی پھر اسے دھو کر آپ کو دے دیتی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مسواک دھونے کا بیان`
«. . . كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ فَيُعْطِينِي السِّوَاكَ لِأَغْسِلَهُ، فَأَبْدَأُ بِهِ فَأَسْتَاكُ، ثُمَّ أَغْسِلُهُ وَأَدْفَعُهُ إِلَيْهِ . . .»
”. . . نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر کے مجھے دھونے کے لیے دیتے تو میں خود اس سے مسواک شروع کر دیتی پھر اسے دھو کر آپ کو دے دیتی . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 52]
«. . . كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ فَيُعْطِينِي السِّوَاكَ لِأَغْسِلَهُ، فَأَبْدَأُ بِهِ فَأَسْتَاكُ، ثُمَّ أَغْسِلُهُ وَأَدْفَعُهُ إِلَيْهِ . . .»
”. . . نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر کے مجھے دھونے کے لیے دیتے تو میں خود اس سے مسواک شروع کر دیتی پھر اسے دھو کر آپ کو دے دیتی . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 52]
فوائد و مسائل:
➊ اس میں طہارت و نظافت کی شرعی اہمیت واضح ہے کہ آپ اپنی مسواک کو بعد از استعمال دھو لیا کرتے تھے۔
➋ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب دہن سے تبرک حاصل کریں جس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توثیق فرمائی اور خیال رہے کہ یہ حصول تبرک صرف اور صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات سے مخصوص تھا۔
➊ اس میں طہارت و نظافت کی شرعی اہمیت واضح ہے کہ آپ اپنی مسواک کو بعد از استعمال دھو لیا کرتے تھے۔
➋ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لعاب دہن سے تبرک حاصل کریں جس کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توثیق فرمائی اور خیال رہے کہ یہ حصول تبرک صرف اور صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات سے مخصوص تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 52 سے ماخوذ ہے۔