سنن ابي داود
أبواب السلام— ابواب: السلام علیکم کہنے کے آداب
باب كَيْفَ السَّلاَمُ باب: سلام کس طرح کیا جائے؟
حدیث نمبر: 5196
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ , قَالَ : أَظُنُّ أَنِّي سَمِعْتُ نَافِعَ بْنَ يَزِيدَ , قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو مَرْحُومٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ , زَادَ ثُمَّ أَتَى آخَرُ , فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ وَمَغْفِرَتُهُ , فَقَالَ : أَرْبَعُونَ , قَالَ : هَكَذَا تَكُونُ الْفَضَائِلُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے` لیکن اس میں اتنا مزید ہے کہ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا ” السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ ومغفرتہ “ تو آپ نے فرمایا : اسے چالیس نیکیاں ملیں گی ، اور اسی طرح ( اور کلمات کے اضافے پر ) نیکیاں بڑھتی جائیں گی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سلام کس طرح کیا جائے؟`
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا مزید ہے کہ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا ” السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ ومغفرتہ “ تو آپ نے فرمایا: اسے چالیس نیکیاں ملیں گی، اور اسی طرح (اور کلمات کے اضافے پر) نیکیاں بڑھتی جائیں گی۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5196]
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا مزید ہے کہ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا ” السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ ومغفرتہ “ تو آپ نے فرمایا: اسے چالیس نیکیاں ملیں گی، اور اسی طرح (اور کلمات کے اضافے پر) نیکیاں بڑھتی جائیں گی۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5196]
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف ہے، اس لیے سلام کرنے والے کو صرف وبرکاتہ تک کہنا چاہیے، البتہ جواب دینے والے کے لئے ومغفرتہ کا اضافہ جائز ہے۔
جیسے کہ حدیث میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں سلام کرتے تو ہم جواب میں وعلیك السلام ورحمة اللہ وبرکاته ومغفرته کہتے تھے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے (الصحیحة:433/3‘حدیث:1449)
یہ روایت ضعیف ہے، اس لیے سلام کرنے والے کو صرف وبرکاتہ تک کہنا چاہیے، البتہ جواب دینے والے کے لئے ومغفرتہ کا اضافہ جائز ہے۔
جیسے کہ حدیث میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں سلام کرتے تو ہم جواب میں وعلیك السلام ورحمة اللہ وبرکاته ومغفرته کہتے تھے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے (الصحیحة:433/3‘حدیث:1449)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5196 سے ماخوذ ہے۔