حدیث نمبر: 5195
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ , أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ عَوْفٍ , عَنْ أَبِي رَجَاءٍ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ , فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ , ثُمَّ جَلَسَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَشْرٌ , ثُمَّ جَاءَ آخَرُ , فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ , فَرَدَّ عَلَيْهِ , فَجَلَسَ , فَقَالَ : عِشْرُونَ , ثُمَّ جَاءَ آخَرُ , فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , فَرَدَّ عَلَيْهِ , فَجَلَسَ , فَقَالَ : ثَلَاثُونَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے ” السلام علیکم “ کہا ، آپ نے اسے سلام کا جواب دیا ، پھر وہ بیٹھ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کو دس نیکیاں ملیں “ پھر ایک اور شخص آیا ، اس نے ” السلام علیکم ورحمتہ اﷲ “ کہا ، آپ نے اسے جواب دیا ، پھر وہ شخص بھی بیٹھ گیا ، آپ نے فرمایا : ” اس کو بیس نیکیاں ملیں “ پھر ایک اور شخص آیا اس نے ” السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ “ کہا ، آپ نے اسے بھی جواب دیا ، پھر وہ بھی بیٹھ گیا ، آپ نے فرمایا : ” اسے تیس نیکیاں ملیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب السلام / حدیث: 5195
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4644), أخرجه الترمذي (2689 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الاستئذان 3 (2689)، (تحفة الأشراف: 10874)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/439، 440)، سنن الدارمی/الاستئذان 12 (2682) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سلام کس طرح کیا جائے؟`
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے السلام علیکم کہا، آپ نے اسے سلام کا جواب دیا، پھر وہ بیٹھ گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو دس نیکیاں ملیں پھر ایک اور شخص آیا، اس نے السلام علیکم ورحمتہ اﷲ کہا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر وہ شخص بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: اس کو بیس نیکیاں ملیں پھر ایک اور شخص آیا اس نے السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ کہا، آپ نے اسے بھی جواب دیا، پھر وہ بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: اسے تیس نیکیاں ملیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5195]
فوائد ومسائل:
سلام کے ہر کلمہ پر دس نیکیاں ملتی ہیں، کو صرف (السلام علیکم) کہے اسے دس، جو اس پر (و رحمتة اللہ) کا اضافہ کرے اس بیس اور جو (وبرکاته) کا کلمہ بھی ملائے اسے تیس نیکیاں ملتی ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5195 سے ماخوذ ہے۔