سنن ابي داود
أبواب السلام— ابواب: السلام علیکم کہنے کے آداب
باب كَيْفَ السَّلاَمُ باب: سلام کس طرح کیا جائے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ , أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ عَوْفٍ , عَنْ أَبِي رَجَاءٍ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ , فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ , ثُمَّ جَلَسَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَشْرٌ , ثُمَّ جَاءَ آخَرُ , فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ , فَرَدَّ عَلَيْهِ , فَجَلَسَ , فَقَالَ : عِشْرُونَ , ثُمَّ جَاءَ آخَرُ , فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , فَرَدَّ عَلَيْهِ , فَجَلَسَ , فَقَالَ : ثَلَاثُونَ " .
´عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے ” السلام علیکم “ کہا ، آپ نے اسے سلام کا جواب دیا ، پھر وہ بیٹھ گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کو دس نیکیاں ملیں “ پھر ایک اور شخص آیا ، اس نے ” السلام علیکم ورحمتہ اﷲ “ کہا ، آپ نے اسے جواب دیا ، پھر وہ شخص بھی بیٹھ گیا ، آپ نے فرمایا : ” اس کو بیس نیکیاں ملیں “ پھر ایک اور شخص آیا اس نے ” السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ “ کہا ، آپ نے اسے بھی جواب دیا ، پھر وہ بھی بیٹھ گیا ، آپ نے فرمایا : ” اسے تیس نیکیاں ملیں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے ” السلام علیکم “ کہا، آپ نے اسے سلام کا جواب دیا، پھر وہ بیٹھ گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس کو دس نیکیاں ملیں “ پھر ایک اور شخص آیا، اس نے ” السلام علیکم ورحمتہ اﷲ “ کہا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر وہ شخص بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ” اس کو بیس نیکیاں ملیں “ پھر ایک اور شخص آیا اس نے ” السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ “ کہا، آپ نے اسے بھی جواب دیا، پھر وہ بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ” اسے تیس نیکیاں ملیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5195]
سلام کے ہر کلمہ پر دس نیکیاں ملتی ہیں، کو صرف (السلام علیکم) کہے اسے دس، جو اس پر (و رحمتة اللہ) کا اضافہ کرے اس بیس اور جو (وبرکاته) کا کلمہ بھی ملائے اسے تیس نیکیاں ملتی ہیں۔