سنن ابي داود
أبواب النوم— ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
باب كَمْ مَرَّةٍ يُسَلِّمُ الرَّجُلُ فِي الاِسْتِئْذَانِ باب: گھر میں داخل ہونے کی اجازت لینے کے لیے آدمی کتنی بار سلام کرے؟
حدیث نمبر: 5186
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ الْحَرَّانِيُّ , فِي آخَرِينَ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى بَابَ قَوْمٍ لَمْ يَسْتَقْبِلِ الْبَابَ مِنْ تِلْقَاءِ وَجْهِهِ ، وَلَكِنْ مِنْ رُكْنِهِ الْأَيْمَنِ أَوِ الْأَيْسَرِ وَيَقُولُ : السَّلَامُ عَلَيْكُمُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَذَلِكَ أَنَّ الدُّورَ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا يَوْمَئِذٍ سُتُورٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے دروازے پر آتے تو دروازہ کے سامنے منہ کر کے نہ کھڑے ہوتے بلکہ دروازے کے چوکھٹ کے دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے ، اور کہتے : ” السلام علیکم ، السلام علیکم “ یہ ان دنوں کی بات ہے جب گھروں میں دروازوں پر پردے نہیں تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´گھر میں داخل ہونے کی اجازت لینے کے لیے آدمی کتنی بار سلام کرے؟`
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے دروازے پر آتے تو دروازہ کے سامنے منہ کر کے نہ کھڑے ہوتے بلکہ دروازے کے چوکھٹ کے دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے، اور کہتے: ” السلام علیکم، السلام علیکم “ یہ ان دنوں کی بات ہے جب گھروں میں دروازوں پر پردے نہیں تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5186]
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے دروازے پر آتے تو دروازہ کے سامنے منہ کر کے نہ کھڑے ہوتے بلکہ دروازے کے چوکھٹ کے دائیں یا بائیں جانب کھڑے ہوتے، اور کہتے: ” السلام علیکم، السلام علیکم “ یہ ان دنوں کی بات ہے جب گھروں میں دروازوں پر پردے نہیں تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5186]
فوائد ومسائل:
1۔
دروازے پر آنے والے کو چاہیے کہ اس کی دائیں یا بائیں جانب ہو کر کھڑا ہو، تاکہ گھر والوں پر نظر نہ پڑے۔
2- جب رسول اللہﷺ جیسی اہم اور محبوب شخصیت اجازت لینے کا اہتمام کرتی تھی تو دوسروں کو بطریق اولی اس پر عمل کرنا چاہیے۔
1۔
دروازے پر آنے والے کو چاہیے کہ اس کی دائیں یا بائیں جانب ہو کر کھڑا ہو، تاکہ گھر والوں پر نظر نہ پڑے۔
2- جب رسول اللہﷺ جیسی اہم اور محبوب شخصیت اجازت لینے کا اہتمام کرتی تھی تو دوسروں کو بطریق اولی اس پر عمل کرنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5186 سے ماخوذ ہے۔