حدیث نمبر: 5183
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى , عَنْ أَبِيهِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ لِأَبِي مُوسَى : إِنِّي لَمْ أَتَّهِمْكَ وَلَكِنَّ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے ، اس میں ہے کہ` عمر رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ سے کہا : میں تم پر ( جھوٹی حدیث بیان کرنے کا ) اتہام نہیں لگاتا ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنے کا معاملہ سخت ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی: حدیث کو روایت کرنے میں بڑی احتیاط اور ہوشیاری لازم ہے، ایسا نہ ہو کہ بھول چوک ہو جائے یا غلط فہمی سے الفاظ بدلنے میں مطلب کچھ کا کچھ ہو جائے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5183
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, انظر الحديثين السابقين (5181، 5182) والآتي (5184)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم : (5181)، (تحفة الأشراف: 9084) (صحیح الإسناد) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´گھر میں داخل ہونے کی اجازت لینے کے لیے آدمی کتنی بار سلام کرے؟`
اس سند سے بھی ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے، اس میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ سے کہا: میں تم پر (جھوٹی حدیث بیان کرنے کا) اتہام نہیں لگاتا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنے کا معاملہ سخت ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5183]
فوائد ومسائل:
فتوی، خطبہ اور تحریرمیں پیش کی جانے والی احادیث معتبر اور باحوالہ ہوں تو بہتر ہے اور اصحاب الحدیث بحمد اللہ تعالی ہر دور میں یہی فریضہ انجام دیتے رہے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5183 سے ماخوذ ہے۔