سنن ابي داود
أبواب النوم— ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
باب كَمْ مَرَّةٍ يُسَلِّمُ الرَّجُلُ فِي الاِسْتِئْذَانِ باب: گھر میں داخل ہونے کی اجازت لینے کے لیے آدمی کتنی بار سلام کرے؟
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ أَبَا مُوسَى اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، قَالَ فِيهِ : فَانْطَلَقَ بأَبِي سَعِيدٍ فَشَهِدَ لَهُ ، فَقَالَ : أَخَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَلْهَانِي السَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ وَلَكِنْ سَلِّمْ مَا شِئْتَ ، وَلَا تَسْتَأْذِنْ .
´عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ` ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے اجازت مانگی ، پھر راوی نے یہی قصہ بیان کیا ، اس میں ہے یہاں تک کہ ابوموسیٰ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے ، اور انہوں نے گواہی دی ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث مجھ سے پوشیدہ رہ گئی ، بازاروں کی خرید و فروخت اور تجارت کے معاملات نے اس حدیث کی آگاہی سے مجھے غافل و محروم کر دیا ، ( اب تمہارے لیے اجازت ہے ) سلام جتنی بار چاہو کرو ، اندر آنے کے لیے اجازت طلب کرنے کی حاجت نہیں ہے ۔