سنن ابي داود
كتاب الصلاة— کتاب: نماز کے احکام و مسائل
باب مَا يَجِبُ عَلَى الْمُؤَذِّنِ مِنْ تَعَاهُدِ الْوَقْتِ باب: مؤذن پر اذان کے اوقات کی پابندی ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 518
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، قَالَ : نُبِّئْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : وَلَا أُرَانِي إِلَّا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے` گذشتہ حدیث کے مثل مرفوع روایت آئی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مؤذن پر اذان کے اوقات کی پابندی ضروری ہے۔`
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے گذشتہ حدیث کے مثل مرفوع روایت آئی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 518]
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے گذشتہ حدیث کے مثل مرفوع روایت آئی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 518]
518۔ اردو حاشیہ:
➊ امام کی ذمہ داری یہ ہے کہ صحیح سنت کے مطابق نماز پڑھائے۔ دعاؤں میں اپنے مقتدیوں کو شامل رکھے۔ اور صرف اپنے آپ کو ہی مخصوص نہ کرے۔ وغیرہ۔
➋ موذن کا اذان دینا اعلان عام ہوتا ہے کہ نماز سحر یا افطار کا وقت ہو گیا ہے۔ اس لئے اس پر اعتماد کیا جانا چاہیے۔ اور اس پر واجب ہے کہ اپنی ذمے داری کا خوب احساس کرے۔
➌ نماز کی امامت اور موذن بننا اسلامی معاشرے کے انتہائی باوقار مناصب ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی فضیلت بیان کی ہے۔ اس لئے انہیں کامل عزت و احترام دیا جائے۔ اور بلاوجہ ان کی تحقیر اور عیب چینی سے بچا جائے۔ دراصل یہ ہے کہ یہ مناصب دیکھ بھال کر صاحب صلاحیت افراد ہی کو دیئے جایئں۔
➊ امام کی ذمہ داری یہ ہے کہ صحیح سنت کے مطابق نماز پڑھائے۔ دعاؤں میں اپنے مقتدیوں کو شامل رکھے۔ اور صرف اپنے آپ کو ہی مخصوص نہ کرے۔ وغیرہ۔
➋ موذن کا اذان دینا اعلان عام ہوتا ہے کہ نماز سحر یا افطار کا وقت ہو گیا ہے۔ اس لئے اس پر اعتماد کیا جانا چاہیے۔ اور اس پر واجب ہے کہ اپنی ذمے داری کا خوب احساس کرے۔
➌ نماز کی امامت اور موذن بننا اسلامی معاشرے کے انتہائی باوقار مناصب ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی فضیلت بیان کی ہے۔ اس لئے انہیں کامل عزت و احترام دیا جائے۔ اور بلاوجہ ان کی تحقیر اور عیب چینی سے بچا جائے۔ دراصل یہ ہے کہ یہ مناصب دیکھ بھال کر صاحب صلاحیت افراد ہی کو دیئے جایئں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 518 سے ماخوذ ہے۔