حدیث نمبر: 5176
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ أَخْبَرَهُ ، عَنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ ، " أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ بَعَثَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَبَنٍ وَجَدَايَةٍ وَضَغَابِيسَ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَى مَكَّةَ ، فَدَخَلْتُ وَلَمْ أُسَلِّمْ ، فَقَالَ : ارْجِعْ ، فَقُلْ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ " , وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ ، قَالَ عَمْرٌو : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ صَفْوَانَ بِهَذَا أَجْمَعَ ، عَنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ : قَالَ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ أُمَيَّةُ بْنُ صَفْوَانَ , وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُهُ مِنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ ، وقَالَ يَحْيَى أَيْضًا : عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ كَلَدَةَ بْنَ الْحَنْبَلِ أَخْبَرَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´کلدہ بن حنبل سے روایت ہے کہ` صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دودھ ، ہرن کا بچہ اور چھوٹی چھوٹی ککڑیاں دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ، اس وقت آپ مکہ کے اونچائی والے حصہ میں تھے ، میں آپ کے پاس گیا ، اور آپ کو سلام نہیں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوٹ کر ( باہر ) جاؤ اور ( پھر سے آ کر ) السلام علیکم کہو ، یہ واقعہ صفوان بن امیہ کے اسلام قبول کر لینے کے بعد کا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5176
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4671), أخرجه الترمذي (2710 وسنده حسن), َدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الاستئذان 18 (2710)، (تحفة الأشراف: 11167)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/414) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت کس طرح طلب کی جائے؟`
کلدہ بن حنبل سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دودھ، ہرن کا بچہ اور چھوٹی چھوٹی ککڑیاں دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، اس وقت آپ مکہ کے اونچائی والے حصہ میں تھے، میں آپ کے پاس گیا، اور آپ کو سلام نہیں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوٹ کر (باہر) جاؤ اور (پھر سے آ کر) السلام علیکم کہو، یہ واقعہ صفوان بن امیہ کے اسلام قبول کر لینے کے بعد کا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5176]
فوائد ومسائل:
1: مجلس میں جانے کا ادب اور اجازت کے لئے اسلام علیکم کہنا ضروری ہے۔

2: اور جو شخص اس کی خلاف ورزی کرے اسے عملا ادب سکھایا جائے۔
مجلس میں جانے کا ادب اور اجازت کے لئے اسلام علیکم کہنا ضروری ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5176 سے ماخوذ ہے۔