حدیث نمبر: 5174
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ هُزَيْلٍ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ ، قَالَ عُثْمَانُ : سَعْدٌ ، فَوَقَفَ عَلَى بَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُ ، فَقَامَ عَلَى الْبَابِ ، قَالَ عُثْمَانُ : مُسْتَقْبِلَ الْبَابِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَكَذَا عَنْكَ أَوْ هَكَذَا فَإِنَّمَا الِاسْتِئْذَانُ مِنَ النَّظَرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ہزیل کہتے ہیں کہ` ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، ( عثمان کی روایت میں ہے کہ وہ سعد بن ابی وقاص تھے ) تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر اجازت طلب کرنے کے لیے رکے اور دروازے پر یا دروازے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : تمہیں اس طرح کھڑا ہونا چاہیئے یا اس طرح ؟ ( یعنی دروازہ سے ہٹ کر ) کیونکہ اجازت کا مقصود نظر ہی کی اجازت ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5174
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الأعمش مدلس وعنعن, وفي الرواية الثالثة : الرجل ھو ھزيل بن شرحبيل والحديث السابق (الأصل : 5173) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3946) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت طلب کرنے کا بیان۔`
ہزیل کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، (عثمان کی روایت میں ہے کہ وہ سعد بن ابی وقاص تھے) تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر اجازت طلب کرنے کے لیے رکے اور دروازے پر یا دروازے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تمہیں اس طرح کھڑا ہونا چاہیئے یا اس طرح؟ (یعنی دروازہ سے ہٹ کر) کیونکہ اجازت کا مقصود نظر ہی کی اجازت ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5174]
فوائد ومسائل:
اہل علم اور بڑے لوگوں پر واجب ہے کہ اپنے زیر تربیت اور چھوٹوں کو ہر طرح کے آداب کی عملی تربیت دینے کا اہتمام کریں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5174 سے ماخوذ ہے۔