حدیث نمبر: 5170
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُباب ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ خَبَّبَ زَوْجَةَ امْرِئٍ أَوْ مَمْلُوكَهُ فَلَيْسَ مِنَّا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی کی بیوی یا غلام و لونڈی کو ( اس کے شوہر یا مالک کے خلاف ) ورغلائے تو وہ ہم میں سے نہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5170
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, مشكوة المصابيح (3262), انظر الحديث السابق (2175)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، وانظر حدیث رقم (2175)، (تحفة الأشراف: 14817) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2175

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´غلام کو آقا کے خلاف ورغلانے کی مذمت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی کی بیوی یا غلام و لونڈی کو (اس کے شوہر یا مالک کے خلاف) ورغلائے تو وہ ہم میں سے نہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5170]
فوائد ومسائل:
کسی کے گھر میں یا کسی ادارے کے رواں دواں نظام میں فتنہ فساد ڈال دینا انتہائی گناہ کا کام ہے۔
رسول اللہ ﷺنے ایسے فتنہ انگیز شخص سے لاتعلقی کا اظہار فرمایا ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5170 سے ماخوذ ہے۔