حدیث نمبر: 5169
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا نَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَأَحْسَنَ عِبَادَةَ اللَّهِ ، فَلَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت اچھے ڈھنگ سے کرے تو اسے دہرا ثواب ملے گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5169
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2546) صحيح مسلم (1664)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/العتق 16 (2546)، 17 (2550)، صحیح مسلم/الأیمان 11 (1664)، (تحفة الأشراف: 8352)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/20، 102، 142) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 2546 | صحيح البخاري: 2550 | صحيح مسلم: 1664 | موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 479

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مالک کے خیرخواہ غلام کے ثواب کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اللہ کی عبادت اچھے ڈھنگ سے کرے تو اسے دہرا ثواب ملے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5169]
فوائد ومسائل:
صاحب ایمان غلام اور ماتحت کو چاہیے کہ اپنے مالک اور اپنے بڑے کو خیر کی بات کہنے میں نہ بخیلی بنے اور نہ ہچکچائے اس میں بہت بڑا ثواب ہے۔
اور مالک کو بھی چاہیے کہ غلام اور خادم کی نصیحت پرناک بھوں نہ چڑھائے۔
بلکہ اس کو قدر اور تسکین کی نگاہ سے دیکھے اور ایسے غلام اور خادم کو اپنا حقیقی خیر خواہ سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ نیکی کرے۔
اور حسن سلوک سے پیش آئے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
(هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ) (الرحمٰن۔
60) احسان کا بدلہ احسان ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5169 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2550 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2550. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جب کوئی غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اپنے رب کی عبادت احسن انداز سے بجالائے تو اسے دوگنا ثواب ملتا ہے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2550]
حدیث حاشیہ: روایت میں لفظ عبد اور سید استعمال ہوئے ہیں یہی مقصود باب ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2550 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2546 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2546. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب کوئی غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اپنے پروردگار کی بھی اچھی طرح عبادت کرے تو اس کو دوگنا اجر ملے گا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2546]
حدیث حاشیہ: آنحضرت ﷺ نے جہاں مالکوں کو اپنے لونڈی غلاموں کے ساتھ احسان و سلوک کرنے کی ہدایت فرمائی وہاں لونڈی غلاموں کو بھی احسن طریق پر سمجھایا کہ وہ اسلامی فرائض کی ادائیگی کے بعد اپنا اہم فریضہ اپنے مالکوں کی خیرخواہی ان کو نفع رسانی سمجھیں۔
مالک اور آقا کے بھی حقوق ہیں۔
ان کے ساتھ وفاداری کے ساتھ زندگی گزاریں۔
ان کے لیے ضرر رسانی کا کبھی تصور بھی نہ کریں۔
وہ ایسا کریں گے تو ان کو دوگنا ثواب ملے گا۔
فرائض اسلامی کی ادائیگی کا ثواب اور اپنے مالک کی خدمت کا ثواب، اسی دوگنے ثواب کا تصور تھا جس پر حضرت ابوہریرہ ؓ نے وہ تمنا ظاہر فرمائی جو اگلی روایت میں مذکورہ ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2546 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2546 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2546. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب کوئی غلام اپنے آقا کی خیر خواہی کرے اور اپنے پروردگار کی بھی اچھی طرح عبادت کرے تو اس کو دوگنا اجر ملے گا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2546]
حدیث حاشیہ:
مذکورہ غلام کو دوہرا ثواب اس لیے دیا جاتا ہے کہ وہ دو حق ادا کرتا ہے۔
اس پر اشکال وارد ہوتا ہے کہ اس اعتبار سے سادات کا اجر کم اور ممالیک کا زیادہ ہو گا؟ اس کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
یہ بھی ممکن ہے کہ غلاموں کا ثواب اس جہت سے زیادہ اور سادات کا دوسری جہات سے زیادہ ہو جائے۔
یہ جواب بھی دیا گیا ہے کہ حدیث کے مطابق اس عبد (غلام)
کو فوقیت دی جا رہی ہے جو دونوں کے حقوق ادا کرتا ہو بخلاف اس غلام کے جو صرف ایک حق ادا کرتا ہے، یعنی اس میں غلام کے ثواب کا موازنہ اس جیسے غلام سے ہے نہ کہ دوسرے آزاد لوگوں سے۔
مالک کی خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے آقا کی فلاح وبہبود کا ارادہ کرے، تعلقات کو خیانت اور دھوکے سے پاک رکھے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2546 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: موطا امام مالك رواية ابن القاسم / حدیث: 479 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´دوہرے اجر کے مستحق غلام`
«. . . 250- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن العبد إذا نصح لسيده وأحسن عبادة ربع فله أجره مرتين. . . .»
. . . اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب غلام اپنے آقا کے لئے خیر خواہی کرتا ہے اور احسن طریقے سے اپنے رب کی عبادت کرتا ہے تو اسے دوہرا اجر ملتا ہے . . . [موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 479]
تخریج الحدیث: [وأخرجه البخاري 2546، ومسلم 43/1664، من حديث مالك به]
تفقه:
➊ اسلام میں سابقہ غلامی کی اجازت ہے لیکن یہ ترغیب دی گئی ہے کہ غلاموں کو آزاد کر دیا جائے۔ اس طرح سے غلامی کا بتدریج خاتمہ ہو جاتا ہے۔
➋ جو شخص کسی (مسلمان) کے پاس نوکری کر رہا ہو تو اسے چاہئے کہ ہر وقت اپنے آقا اور افسر کی خیر خواہی اور حسنِ سلوک میں مصروف رہے اور اپنی زندگی کو کتاب وسنت کے قالب میں ڈھال کر رکھے۔
➌ درج بالا حدیث میں مذکور غلام اس آزاد سے افضل ہے جو اپنے آقا کی فرماں برداری میں کوتاہی برتے۔
➍ ایک جلیل القدر غلام کا تذکرہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اس سے حسنِ سلوک پیشِ خدمت ہے: ایک دفعہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ مدینے کی بعض نواحی بستیوں میں تشریف لے گئے، کھانے کا وقت ہوا تہ آپ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ دستر خوان بچھا لیا، دیکھا کہ ایک چرواہا بکریاں چرا رہا ہے، اسے بلا کر فرمایا: ہمارے ساتھ کھانا کھاؤ، وہ بولا: میرا روزہ ہے، آپ سخت حیران ہوئے کہ اتنی گرمی میں روزہ رکھتے ہو؟ وہ بولا: میں ان دنوں کو (مرنے کے بعد والی زندگی کے لئے) غنیمت سمجھتا ہوں، عبداللہ بن عمر (رضی اللہ عنہ) نے اس کا امتحان لینے کے لئے پوچھا: ایک بکری ہمیں بیچ دو، وہ بولا: یہ بکریاں میری نہیں ہیں بلکہ مالک کی ہیں۔
آپ نے (بطور امتحان) فرمایا: مالک کو کہہ دینا کہ بھیڑیا بکری کو کھا گیا ہے۔ اس چرواہے نے جواب دیا: پھر اللہ کہاں ہے؟ یعنی اللہ دیکھ رہا ہے، آپ اتنے خوش ہوئے کہ اس غلام کو اس کے مالک سے خرید کر آزاد کردیا اور بکریاں بھی خرید کر اس کے حوالے کر دیں۔ [تاريخ دمشق ملخصاً 33/89 وسنده حسن]
درج بالا اقتباس موطا امام مالک روایۃ ابن القاسم شرح از زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 250 سے ماخوذ ہے۔