سنن ابي داود
أبواب النوم— ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي حَقِّ الْمَمْلُوكِ باب: غلام اور لونڈی کے حقوق کا بیان۔
حدیث نمبر: 5168
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , وَأَبُو كَامِلٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ ، عَنْ زَاذَانَ ، قَالَ : أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ وَقَدْ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا لَهُ فَأَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ عُودًا أَوْ شَيْئًا ، فَقَالَ : مَا لِي فِيهِ مِنَ الْأَجْرِ مَا يَسْوَى هَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ لَطَمَ مَمْلُوكَهُ أَوْ ضَرَبَهُ ، فَكَفَّارَتُهُ أَنْ يُعْتِقَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زاذان کہتے ہیں کہ` میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا ، آپ نے اپنا ایک غلام آزاد کیا تھا ، آپ نے زمین سے ایک لکڑی یا کوئی ( معمولی ) چیز لی اور کہا : اس میں مجھے اس لکڑی بھر بھی ثواب نہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے غلام کو تھپڑ لگائے یا اسے مارے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس کو آزاد کر دے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´غلام اور لونڈی کے حقوق کا بیان۔`
زاذان کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، آپ نے اپنا ایک غلام آزاد کیا تھا، آپ نے زمین سے ایک لکڑی یا کوئی (معمولی) چیز لی اور کہا: اس میں مجھے اس لکڑی بھر بھی ثواب نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے غلام کو تھپڑ لگائے یا اسے مارے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس کو آزاد کر دے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5168]
زاذان کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، آپ نے اپنا ایک غلام آزاد کیا تھا، آپ نے زمین سے ایک لکڑی یا کوئی (معمولی) چیز لی اور کہا: اس میں مجھے اس لکڑی بھر بھی ثواب نہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے غلام کو تھپڑ لگائے یا اسے مارے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس کو آزاد کر دے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5168]
فوائد ومسائل:
اسلام نے انسانی معاشرے میں صدیوں میں رائج غلامی کےنظام کو بڑی دقیق حکمت سے ختم کیا ہے کہ موقع بموقع ہوجانے والی غلطیوں میں غلاموں کے آذاد کرنے کو ان کا کفارہ قرار دیا ہے۔
چنانچہ اہل ایمان نے اس انداز سے غلاموں کو آزاد کرنا اپنا معمول بنا لیا۔
اور انہیں آزاد کیا کہ اب یہ صنف تقریباً ناپید ہے۔
اسلام نے انسانی معاشرے میں صدیوں میں رائج غلامی کےنظام کو بڑی دقیق حکمت سے ختم کیا ہے کہ موقع بموقع ہوجانے والی غلطیوں میں غلاموں کے آذاد کرنے کو ان کا کفارہ قرار دیا ہے۔
چنانچہ اہل ایمان نے اس انداز سے غلاموں کو آزاد کرنا اپنا معمول بنا لیا۔
اور انہیں آزاد کیا کہ اب یہ صنف تقریباً ناپید ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5168 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1657 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
ابو عمر زاذان بیان کرتے ہیں، میں ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، اور وہ ایک غلام آزاد کر چکے تھے، تو انہوں نے زمین سے ایک تنکا یا کوئی چیز لی اور کہا، اس غلام کی آزادی میں اس کے برابر بھی اجر و ثواب نہیں ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا یا پیٹا، تو اس کا کفارہ اس کو آزاد کرنا ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:4298]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ غلاموں کے ساتھ حسن سلوک اور ملائمت سے پیش آنا چاہیے، اور معمولی فروگزاشت پر انہیں مارنا پیٹنا اور دکھ اور اذیت سے دوچار کرنا درست نہیں ہے، اور اگر کوئی آقا اپنے مملوک پر ظلم و زیادتی کرتا ہے، تو اس کے لیے پسندیدہ طرز عمل یہی ہے کہ وہ اس کو آزاد کر دے، تاکہ اس کے ظلم و زیادتی کا ازالہ ہو جائے، لیکن بالاتفاق آزاد کرنا فرض نہیں ہے، ایک بہترین طریقہ ہے، ہاں، اگر اس نے غلام کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے، اس کا کوئی عضو کاٹ دیا ہے، یا جلا دیا ہے، یا بے کار کر دیا ہے، تو پھر امام مالک اور امام لیث کے نزدیک آزاد کرنا فرض ہو گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1657 سے ماخوذ ہے۔