حدیث نمبر: 5167
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ : " لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا ، فَدَعَاهُ أَبِي وَدَعَانِي ، فَقَالَ : اقْتَصَّ مِنْهُ ، فَإِنَّا مَعْشَرَ بَنِي مُقَرِّنٍ كُنَّا سَبْعَةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ لَنَا إِلَّا خَادِمٌ ، فَلَطَمَهَا رَجُلٌ مِنَّا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَعْتِقُوهَا , قَالُوا : إِنَّهُ لَيْسَ لَنَا خَادِمٌ غَيْرَهَا ، قَالَ : فَلْتَخْدُمْهُمْ حَتَّى يَسْتَغْنُوا ، فَإِذَا اسْتَغْنَوْا فَلْيُعْتِقُوهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معاویہ بن سوید بن مقرن کہتے ہیں` میں نے اپنے ایک غلام کو طمانچہ مار دیا تو ہمارے والد نے ہم دونوں کو بلایا اور اس سے کہا کہ اس سے قصاص ( بدلہ ) لو ، ہم مقرن کی اولاد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سات نفر تھے اور ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا ، ہم میں سے ایک نے اسے طمانچہ مار دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے آزاد کر دو “ لوگوں نے عرض کیا : اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی خادم نہیں ہے ، آپ نے فرمایا : ” اچھا جب تک یہ لوگ غنی نہ ہو جائیں تم ان کی خدمت کرتے رہو ، اور جب یہ لوگ غنی ہو جائیں تو وہ لوگ اسے آزاد کر دیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5167
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (1658)
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 6717) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1658 | سنن ترمذي: 1542 | سنن ابي داود: 5166

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1658 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت معاویہ بن سوید رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے اپنے ایک مولیٰ کو تھپڑ مارا تو میں بھاگ گیا، پھر ظہر سے پہلے واپس آ گیا اور اپنے والد کی اقتدا میں نماز پڑھی، تو میرے والد نے، غلام کو اور مجھے طلب کیا، پھر غلام کو کہا، اس سے بدلہ لو، تو اس نے معاف کر دیا، پھر میرے والد نے بتایا، ہم مقرن کی اولاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں صرف ایک خادمہ کے مالک تھے، تو ہم میں سے کسی ایک نے اسے تھپڑ مارا، اور رسول... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:4301]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: یہ صحابہ کرام کا کریمانہ اخلاق تھا کہ محض ایک تھپڑ مارنے پر، اپنے غلام کو کہا، اس سے وہی سلوک کرو جو اس نے تیرے ساتھ کیا ہے، حالانکہ ایسے مواقع پر محض سرزنش و توبیخ کافی ہوتی ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صحابہ کرام کو سبق سکھایا، کہ وہ ان کے ساتھ ظلم و زیادتی سے پیش نہ آئیں، اور بلاوجہ مار پیٹ سے کام نہ لیں، اور اگر ایسا کر بیٹھیں، تو غلام آزاد کر دیں تاکہ کسی اور غلام کے ساتھ اس کام کا اعادہ نہ ہو۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1658 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5166 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´غلام اور لونڈی کے حقوق کا بیان۔`
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر اترے، ہمارے ساتھ ایک تیز مزاج بوڑھا تھا اور اس کے ساتھ اس کی ایک لونڈی تھی، اس نے اس کے چہرے پر طمانچہ مارا تو میں نے سوید کو جتنا سخت غصہ ہوتے ہوئے دیکھا اتنا کبھی نہیں دیکھا تھا، انہوں نے کہا: تیرے پاس اسے آزاد کر دینے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں، تو نے ہمیں دیکھا ہے کہ ہم مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتویں ہیں، ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا، سب سے چھوٹے بھائی نے (ایک بار) اس کے منہ پر طمانچہ مار دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے آزاد کر دینے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5166]
فوائد ومسائل:
چہرے پرمارنا سخت منع ہے۔
اور رسول اللہﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
آپﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔
(إذا قَاتَلَ أحدُكُم أخاه فليجتنبِ الوجهَ) (صحيح مسلم، البر والصلة، حديث: 2612) جب تم سے کسی کی اپنے (مسلمان) بھائی کے ساتھ لڑائی ہوجائے تو چاہیے کہ اس کے چہرے (پرمارنے) سے بچے۔
حتیٰ کہ حیوان کے چہرے پر بھی نہین مارنا چاہیے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5166 سے ماخوذ ہے۔