سنن ابي داود
أبواب النوم— ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي حَقِّ الْمَمْلُوكِ باب: غلام اور لونڈی کے حقوق کا بیان۔
حدیث نمبر: 5164
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ , وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ , وَهَذَا حَدِيثُ الْهَمْدَانِيِّ وَهُوَ أَتَمُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ جُلَيْدٍ الْحَجْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَمْ نَعْفُو عَنِ الْخَادِمِ ؟ فَصَمَتَ ، ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ الْكَلَامَ ، فَصَمَتَ فَلَمَّا كَانَ فِي الثَّالِثَةِ ، قَالَ : اعْفُوا عَنْهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم خادم کو کتنی بار معاف کریں ، آپ ( سن کر ) چپ رہے ، پھر اس نے اپنی بات دھرائی ، آپ پھر خاموش رہے ، تیسری بار جب اس نے اپنی بات دھرائی تو آپ نے فرمایا : ” ہر دن ستر بار اسے معاف کرو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´غلام اور لونڈی کے حقوق کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم خادم کو کتنی بار معاف کریں، آپ (سن کر) چپ رہے، پھر اس نے اپنی بات دھرائی، آپ پھر خاموش رہے، تیسری بار جب اس نے اپنی بات دھرائی تو آپ نے فرمایا: ” ہر دن ستر بار اسے معاف کرو۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5164]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم خادم کو کتنی بار معاف کریں، آپ (سن کر) چپ رہے، پھر اس نے اپنی بات دھرائی، آپ پھر خاموش رہے، تیسری بار جب اس نے اپنی بات دھرائی تو آپ نے فرمایا: ” ہر دن ستر بار اسے معاف کرو۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5164]
فوائد ومسائل:
لونڈی، غلام اور خادم کو بہت زیادہ معاف کرنا چاہیے اور ساتھ ہی اس کو کام کرنے کا سلیقہ بھی سمجھانا چاہیے۔
لونڈی، غلام اور خادم کو بہت زیادہ معاف کرنا چاہیے اور ساتھ ہی اس کو کام کرنے کا سلیقہ بھی سمجھانا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5164 سے ماخوذ ہے۔