حدیث نمبر: 5163
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُصَفَّى ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ زُفَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ رَافِعِ بْنِ مَكِيثٍ ، عَنْ عَمِّهِ الْحَارِثِ بْنِ رَافِعٍ بْنِ مَكِيثٍ وَكَانَ رَافِعٌ مِنْ جُهَيْنَةَ قَدْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " حُسْنُ الْمَلَكَةِ يُمْنٌ ، وَسُوءُ الْخُلُقِ شُؤْمٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´رافع بن مکیث سے روایت ہے ، اور رافع قبیلہ جہنیہ سے تعلق رکھتے تھے اور صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے ، وہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” غلام و لونڈی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا برکت اور بدخلقی نحوست ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5163
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث السابق (5162), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 179
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3599، 18480) (ضعیف) » (بقیہ ضعیف، عثمان، محمد اور حارث سب مجہول الحال ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´غلام اور لونڈی کے حقوق کا بیان۔`
رافع بن مکیث سے روایت ہے، اور رافع قبیلہ جہنیہ سے تعلق رکھتے تھے اور صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلام و لونڈی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا برکت اور بدخلقی نحوست ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5163]
فوائد ومسائل:
یہ روایت ضعیف ہے۔
تاہم لونڈی غلام یا خادم ہو یا کوئی حیوان یا پرندہ پال رکھا ہے تو اس کی خوراک لباس رہائش اور صحت کا بخوبی خیال رکھنا شرعی واجبات میں سے ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5163 سے ماخوذ ہے۔