حدیث نمبر: 5153
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو تَوْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو جَارَهُ ، فَقَالَ : اذْهَبْ فَاصْبِرْ , فَأَتَاهُ مَرَّتَيْنِ ، أَوْ ثَلَاثًا ، فَقَالَ : اذْهَبْ فَاطْرَحْ مَتَاعَكَ فِي الطَّرِيقِ , فَطَرَحَ مَتَاعَهُ فِي الطَّرِيقِ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَسْأَلُونَهُ فَيُخْبِرُهُمْ خَبَرَهُ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْعَنُونَهُ فَعَلَ اللَّهُ بِهِ وَفَعَلَ وَفَعَلَ فَجَاءَ إِلَيْهِ جَارُهُ ، فَقَالَ لَهُ : ارْجِعْ لَا تَرَى مِنِّي شَيْئًا تَكْرَهُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اپنے پڑوسی کی شکایت کر رہا تھا ، آپ نے فرمایا : ” جاؤ صبر کرو “ پھر وہ آپ کے پاس دوسری یا تیسری دفعہ آیا ، تو آپ نے فرمایا : ” جاؤ اپنا سامان نکال کر راستے میں ڈھیر کر دو “ تو اس نے اپنا سامان نکال کر راستہ میں ڈال دیا ، لوگ اس سے وجہ پوچھنے لگے اور وہ پڑوسی کے متعلق لوگوں کو بتانے لگا ، لوگ ( سن کر ) اس پر لعنت کرنے اور اسے بد دعا دینے لگے کہ اللہ اس کے ساتھ ایسا کرے ، ایسا کرے ، اس پر اس کا پڑوسی آیا اور کہنے لگا : اب آپ ( گھر میں ) واپس آ جائے آئندہ مجھ سے کوئی ایسی بات نہ دیکھیں گے جو آپ کو ناپسند ہو ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5153
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14141) (حسن صحیح) »