حدیث نمبر: 5142
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ , وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ الْمَعْنَى ، قَالُوا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُبَيْدٍ مَوْلَى بَنِي سَاعِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ بَقِيَ مِنْ بِرِّ أَبَوَيَّ شَيْءٌ أَبَرُّهُمَا بِهِ بَعْدَ مَوْتِهِمَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، الصَّلَاةُ عَلَيْهِمَا ، وَالِاسْتِغْفَارُ لَهُمَا ، وَإِنْفَاذُ عَهْدِهِمَا مِنْ بَعْدِهِمَا ، وَصِلَةُ الرَّحِمِ الَّتِي لَا تُوصَلُ إِلَّا بِهِمَا ، وَإِكْرَامُ صَدِيقِهِمَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابواسید مالک بن ربیعہ ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران بنو سلمہ کا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ کے مر جانے کے بعد بھی ان کے ساتھ حسن سلوک کی کوئی صورت ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ہے ، ان کے لیے دعا اور استغفار کرنا ، ان کے بعد ان کی وصیت و اقرار کو نافذ کرنا ، جو رشتے انہیں کی وجہ سے جڑتے ہیں ، انہیں جوڑے رکھنا ، ان کے دوستوں کی خاطر مدارات کرنا ( ان حسن سلوک کی یہ مختلف صورتیں ہیں ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5142
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4936), أخرجه ابن ماجه (3664 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الأدب 2 (3664)، (تحفة الأشراف: 11197)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/497) (ضعیف) » (اس کے راوی علی بن عبید لین الحدیث ہیں )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3664