سنن ابي داود
أبواب النوم— ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي بِرِّ الْوَالِدَيْنِ باب: ماں باپ کے ساتھ اچھے سلوک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5137
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ ، فَيُعْتِقَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیٹا اپنے والد کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتا سوائے اس کے کہ وہ اسے غلام پائے پھر اسے خرید کر آزاد کر دے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ماں باپ کے ساتھ اچھے سلوک کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیٹا اپنے والد کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتا سوائے اس کے کہ وہ اسے غلام پائے پھر اسے خرید کر آزاد کر دے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5137]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” بیٹا اپنے والد کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتا سوائے اس کے کہ وہ اسے غلام پائے پھر اسے خرید کر آزاد کر دے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5137]
فوائد ومسائل:
آذا د کرنے کے یہ معنی نہیں کے بیٹا باپ کو خریدے۔
تو اب عملاً آزاد کرنے کا اعلان کرے۔
بلکہ علمائے امت کا اجماع ہے۔
کہ باپ بیٹے کی یا بیٹا باپ کی ملکیت میں آتے ہی فوراً از خود آذاد ہو جائے گا۔
آزاد کرنے کا بیان خریدنے کی نسبت سے آیا ہے۔
اور اس عمل کو بیتے کی طرف سے باپ کے حقوق کی ادایئگی سے تعبیر کیا گیا ہے۔
آذا د کرنے کے یہ معنی نہیں کے بیٹا باپ کو خریدے۔
تو اب عملاً آزاد کرنے کا اعلان کرے۔
بلکہ علمائے امت کا اجماع ہے۔
کہ باپ بیٹے کی یا بیٹا باپ کی ملکیت میں آتے ہی فوراً از خود آذاد ہو جائے گا۔
آزاد کرنے کا بیان خریدنے کی نسبت سے آیا ہے۔
اور اس عمل کو بیتے کی طرف سے باپ کے حقوق کی ادایئگی سے تعبیر کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5137 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1906 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´اولاد پر ماں باپ کے حقوق کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کوئی لڑکا اپنے باپ کا احسان نہیں چکا سکتا ہے سوائے اس کے کہ اسے (یعنی باپ کو) غلام پائے اور خرید کر آزاد کر دے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1906]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کوئی لڑکا اپنے باپ کا احسان نہیں چکا سکتا ہے سوائے اس کے کہ اسے (یعنی باپ کو) غلام پائے اور خرید کر آزاد کر دے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1906]
اردو حاشہ:
وضاحت: 1؎: یہ باپ کے احسان کا بدلہ اس لیے ہے کہ غلامی کی زندگی سے کسی کو آزاد کرانا اس سے زیادہ بہترکوئی چیز نہیں ہے، جس کے ذریعہ کوئی کسی دوسرے پر احسان کرے۔
وضاحت: 1؎: یہ باپ کے احسان کا بدلہ اس لیے ہے کہ غلامی کی زندگی سے کسی کو آزاد کرانا اس سے زیادہ بہترکوئی چیز نہیں ہے، جس کے ذریعہ کوئی کسی دوسرے پر احسان کرے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1906 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3659 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کوئی بھی اولاد اپنے باپ کا حق ادا نہیں کر سکتی مگر اسی صورت میں کہ وہ اپنے باپ کو غلامی کی حالت میں پائے پھر اسے خرید کر آزاد کر دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3659]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کوئی بھی اولاد اپنے باپ کا حق ادا نہیں کر سکتی مگر اسی صورت میں کہ وہ اپنے باپ کو غلامی کی حالت میں پائے پھر اسے خرید کر آزاد کر دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3659]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
والدین کی خدمت زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔
(2)
غلام یا لونڈی کو آزاد کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔
(3)
آزاد مرد کو اپنی لونڈی سے جو اولاد حاصل ہوتی ہے وہ آزاد ہوتی ہے جب کہ اس کی ماں لونڈی ہی رہتی ہے۔
اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ماں باپ اور اولاد سب مملوک ہوں۔
پھر آقا بیٹے کو آزاد کر دے اور اس کے ماں باپ غلام ہی رہیں۔
اس طرح کی کسی صورت میں اولاد والدین کو خرید سکتی ہے اور اولاد کی ملکیت میں آتے ہی والدین کو قانوناً آزاد قرار دے دیا جائے گا۔
فوائد و مسائل:
(1)
والدین کی خدمت زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔
(2)
غلام یا لونڈی کو آزاد کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔
(3)
آزاد مرد کو اپنی لونڈی سے جو اولاد حاصل ہوتی ہے وہ آزاد ہوتی ہے جب کہ اس کی ماں لونڈی ہی رہتی ہے۔
اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ماں باپ اور اولاد سب مملوک ہوں۔
پھر آقا بیٹے کو آزاد کر دے اور اس کے ماں باپ غلام ہی رہیں۔
اس طرح کی کسی صورت میں اولاد والدین کو خرید سکتی ہے اور اولاد کی ملکیت میں آتے ہی والدین کو قانوناً آزاد قرار دے دیا جائے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3659 سے ماخوذ ہے۔