حدیث نمبر: 5128
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس سے مشورہ طلب کیا جائے اسے امانت دار ہونا چاہیئے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5128
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, وله شاھد عند أبي إسحاق الحربي في اكرام الضيف (99 وسنده حسن),
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الأدب 57 (2822)، سنن ابن ماجہ/الأدب 37 (3745)، (تحفة الأشراف: 14977)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/289) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2822 | سنن ابن ماجه: 3745

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مشورے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جس سے مشورہ طلب کیا جائے اسے امانت دار ہونا چاہیئے۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5128]
فوائد ومسائل:
جیسے امانت میں خیانت کرنا حرام ہے، ایسے ہی مسلمان بھائی اگر مشورہ طلب کرے تو واجب ہے۔
کہ انسان اپنی دانست کے مطابق مکمل طور سے خیر اور بھلائی کا مشورہ دے ممکنہ خظرے سے آگاہ کرنے میں بخیل نہ بنے نیز اس کے معاملے کو غیر ضروری طور پر آگے بھی نہ پھیلائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5128 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2822 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مشیر یعنی جس سے مشورہ لیا جاتا ہے اس کو امانت دار ہونا چاہئے۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " مشیر جس سے مشورہ لیا جاتا ہے اس کو امانت دار ہونا چاہیئے " ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2822]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ جس سے مشورہ لیا جاتا ہے، وہ مشورہ لینے والے کی نگاہ میں امانت دار سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس امانت داری کا تقاضہ یہ ہے کہ ایمانداری سے مشورہ دے اور مشورہ دینے کے بعد مشورہ لینے والے کے راز کو دوسروں پر ظاہر نہ کرے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2822 سے ماخوذ ہے۔