سنن ابي داود
أبواب النوم— ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي الْعَصَبِيَّةِ باب: عصبیت (تعصب) کا بیان۔
حدیث نمبر: 5121
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَكِّيِّ يَعْنِي ابْنَ أَبِي لَبِيبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا إِلَى عَصَبِيَّةٍ ، وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ ، وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ مَاتَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ شخص ہم میں سے نہیں جو کسی عصبیت کی طرف بلائے ، وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی بنیاد پر لڑائی لڑے ، اور وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو تعصب کا تصور لیے ہوئے مرے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عصبیت (تعصب) کا بیان۔`
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ شخص ہم میں سے نہیں جو کسی عصبیت کی طرف بلائے، وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی بنیاد پر لڑائی لڑے، اور وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو تعصب کا تصور لیے ہوئے مرے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5121]
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ شخص ہم میں سے نہیں جو کسی عصبیت کی طرف بلائے، وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو عصبیت کی بنیاد پر لڑائی لڑے، اور وہ شخص بھی ہم میں سے نہیں جو تعصب کا تصور لیے ہوئے مرے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5121]
فوائد ومسائل:
1۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم صحیح مسلم کی حدیث (1848) اس سے کفایت کرتی ہے۔
جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے تحقیق وتخریج میں اس کی بابت وضاحت کی ہے۔
2۔
محض قومی عصبیت اور باطل کی حمایت اور دفاع ناجائز اورحرام ہے۔
لیکن اللہ اس کےرسول ﷺ اور دین دایمان کےلئے عصبیت۔
۔
۔
ایک مطلوب عمل ہے۔
جس دل میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت کے ساتھ ساتھ ان کی مخالفت کرنے والے کے خلاف غصہ اورناراضی نہیں اسے اپنے ایمان کی اصلاح کرنی چاہیے۔
حدیث (الحبٌّ في اللهِ والبغضُ في اللهِ من الإيمان)(صحيح البخاري، الإیمان، باب قول النبي ﷺ بنی الإسلام علی خمس قبل حدیث: 8) اللہ کے لیے محبت اوراللہ کے لئے بغض اور ناراضی عین ایمان اور اس کا لازمی تقاضا ہے۔
جو لوگ اپنے آپ کو دینی معاملات میں بہت زیادہ غیر متعصب باور کراتے ہیں۔
حتیٰ کہ دین وایمان کی دھجیاں بکھیرنے پر بھی ان کے خون میں کوئی حدت پیدا نہیں ہوتی انہیں اپنے ایمان کا جائز ہ لینا چاہیے۔
1۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم صحیح مسلم کی حدیث (1848) اس سے کفایت کرتی ہے۔
جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے تحقیق وتخریج میں اس کی بابت وضاحت کی ہے۔
2۔
محض قومی عصبیت اور باطل کی حمایت اور دفاع ناجائز اورحرام ہے۔
لیکن اللہ اس کےرسول ﷺ اور دین دایمان کےلئے عصبیت۔
۔
۔
ایک مطلوب عمل ہے۔
جس دل میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت کے ساتھ ساتھ ان کی مخالفت کرنے والے کے خلاف غصہ اورناراضی نہیں اسے اپنے ایمان کی اصلاح کرنی چاہیے۔
حدیث (الحبٌّ في اللهِ والبغضُ في اللهِ من الإيمان)(صحيح البخاري، الإیمان، باب قول النبي ﷺ بنی الإسلام علی خمس قبل حدیث: 8) اللہ کے لیے محبت اوراللہ کے لئے بغض اور ناراضی عین ایمان اور اس کا لازمی تقاضا ہے۔
جو لوگ اپنے آپ کو دینی معاملات میں بہت زیادہ غیر متعصب باور کراتے ہیں۔
حتیٰ کہ دین وایمان کی دھجیاں بکھیرنے پر بھی ان کے خون میں کوئی حدت پیدا نہیں ہوتی انہیں اپنے ایمان کا جائز ہ لینا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5121 سے ماخوذ ہے۔