سنن ابي داود
أبواب النوم— ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي الرَّجُلِ يَنْتَمِي إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ باب: غلام اپنے آقا کو چھوڑ کر اپنی نسبت کسی اور سے کرے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 5115
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ وَنَحْنُ بِبَيْرُوتَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ الْمُتَتَابِعَةُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جو شخص اپنے کو اپنے والد کے سوا کسی اور کا بیٹا بتائے یا اپنے مولیٰ ( آقا ) کے بجائے کسی اور کو اپنا آقا بنائے تو اس پر پیہم قیامت تک اللہ کی لعنت ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´غلام اپنے آقا کو چھوڑ کر اپنی نسبت کسی اور سے کرے تو کیسا ہے؟`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اپنے کو اپنے والد کے سوا کسی اور کا بیٹا بتائے یا اپنے مولیٰ (آقا) کے بجائے کسی اور کو اپنا آقا بنائے تو اس پر پیہم قیامت تک اللہ کی لعنت ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5115]
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اپنے کو اپنے والد کے سوا کسی اور کا بیٹا بتائے یا اپنے مولیٰ (آقا) کے بجائے کسی اور کو اپنا آقا بنائے تو اس پر پیہم قیامت تک اللہ کی لعنت ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5115]
فوائد ومسائل:
اپنا نسب بدلنا بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے۔
ایسے لوگوں کوغور کرنا چاہیے جو دھوکا دینے کےلئے اپنے باپ بدل لیتے ہیں۔
یا عورتیں کسی کو اپنا شوہر باور کراتی ہیں۔
اورکچھ لوگ اپنی قومیت بدل لیتے ہیں۔
اپنا نسب بدلنا بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے۔
ایسے لوگوں کوغور کرنا چاہیے جو دھوکا دینے کےلئے اپنے باپ بدل لیتے ہیں۔
یا عورتیں کسی کو اپنا شوہر باور کراتی ہیں۔
اورکچھ لوگ اپنی قومیت بدل لیتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5115 سے ماخوذ ہے۔