سنن ابي داود
أبواب النوم— ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي الرَّجُلِ يَنْتَمِي إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ باب: غلام اپنے آقا کو چھوڑ کر اپنی نسبت کسی اور سے کرے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 5114
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ ".
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنے مولیٰ ( آقا ) کی اجازت ۱؎ کے بغیر کسی قوم کو اپنا مولیٰ ( آقا ) بنائے تو اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور تمام ہی لوگوں کی لعنت ہے ، قیامت کے دن نہ اس کا کوئی فرض قبول ہو گا اور نہ ہی کوئی نفل قبول ہو گی “ ۔
وضاحت:
۱؎: «من غير إذن مواليه» کی قید زیادہ تقبیح کے لئے ہے اگر موالی اس کی اجازت دیں تو بھی غیر کو اپنا مولیٰ بنانا حرام ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1508 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے اپنے موالی کی اجازت کے بغیر اپنے آپ کو کسی کی طرف منسوب کیا، تو اس پر اللہ اور اس کے فرشتوں کی لعنت برسے اس کا فرض قبول ہو گا نہ نفل۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:3791]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
عدل: ماپ، استقامت، بدلہ، فدیہ، ضامن، صرف وزن، قیمت، دیت سفارش، رشوت۔
عدل: ماپ، استقامت، بدلہ، فدیہ، ضامن، صرف وزن، قیمت، دیت سفارش، رشوت۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1508 سے ماخوذ ہے۔