سنن ابي داود
أبواب النوم— ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي الرَّجُلِ يَسْتَعِيذُ مِنَ الرَّجُلِ باب: آدمی آدمی سے اللہ کا نام لے کر پناہ مانگے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 5109
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , وَسَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ الْمَعْنَى ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اسْتَعَاذَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ ، وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ " , وَقَالَ سَهْلٌ وَعُثْمَانُ : وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ , ثُمَّ اتَّفَقُوا : وَمَنْ آتَى إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ , قال مُسَدَّدٌ وَعُثْمَانُ : فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا ، فَادْعُوا اللَّهَ لَهُ حَتَّى تَعْلَمُوا أَنْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص تم سے اللہ کے واسطے سے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دو ، اور جو شخص تم سے اللہ کے نام پر سوال کرے تو اسے دو ، جو تمہیں مدعو کرے تو اس کی دعوت قبول کرو ، جو شخص تم پر احسان کرے تو تم اس کے احسان کا بدلہ چکاؤ ، اور اگر بدلہ چکانے کی کوئی چیز نہ پا سکو تو اس کے لیے اتنی دعا کرو جس سے تم یہ سمجھو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آدمی آدمی سے اللہ کا نام لے کر پناہ مانگے تو کیسا ہے؟`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص تم سے اللہ کے واسطے سے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دو، اور جو شخص تم سے اللہ کے نام پر سوال کرے تو اسے دو، جو تمہیں مدعو کرے تو اس کی دعوت قبول کرو، جو شخص تم پر احسان کرے تو تم اس کے احسان کا بدلہ چکاؤ، اور اگر بدلہ چکانے کی کوئی چیز نہ پا سکو تو اس کے لیے اتنی دعا کرو جس سے تم یہ سمجھو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5109]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص تم سے اللہ کے واسطے سے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دو، اور جو شخص تم سے اللہ کے نام پر سوال کرے تو اسے دو، جو تمہیں مدعو کرے تو اس کی دعوت قبول کرو، جو شخص تم پر احسان کرے تو تم اس کے احسان کا بدلہ چکاؤ، اور اگر بدلہ چکانے کی کوئی چیز نہ پا سکو تو اس کے لیے اتنی دعا کرو جس سے تم یہ سمجھو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5109]
فوائد ومسائل:
کسی کی نیکی اور احسان کا بدلہ دینا بہت ضروری ہے، اگر مادی طور پر ممکن نہ ہو تو معنوی اعتبار سے بہت زیادہ دعا دینی چاہیے۔
کسی کی نیکی اور احسان کا بدلہ دینا بہت ضروری ہے، اگر مادی طور پر ممکن نہ ہو تو معنوی اعتبار سے بہت زیادہ دعا دینی چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5109 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2568 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´اللہ عزوجل کے نام پر مانگنے والے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے اسے پناہ دو، اور جو شخص تم سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کرے اسے دو، اور جو شخص اللہ کے نام پر تم سے امان چاہے تو امان دو، اور جو شخص تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کرے تو تم اسے اس کا بدلہ دو، اور اگر تم بدلہ نہ دے سکو تو اس کے لیے دعا کرو یہاں تک کہ تم جان لو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2568]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے اسے پناہ دو، اور جو شخص تم سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کرے اسے دو، اور جو شخص اللہ کے نام پر تم سے امان چاہے تو امان دو، اور جو شخص تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کرے تو تم اسے اس کا بدلہ دو، اور اگر تم بدلہ نہ دے سکو تو اس کے لیے دعا کرو یہاں تک کہ تم جان لو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2568]
اردو حاشہ: (1) مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے شواہد اور متابعات کی بنا پر اسے صحیح قرار دیا ہے۔ مسند احمد کے محققین نے اس پر سیر حاصل بحث کی ہے جس سے تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔ واللہ أعلم تفصیل کے لیے دیکھیے: (ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 23/ 84-87، والموسوعة الحدیثیة مسند الإمام احمد: 9/ 266، 267 والصحیحة للألباني: 1/ 510، 511۔ رقم الحدیث: 254)
(2) اللہ تعالیٰ ہی عزت والا ہے۔ تمام بزرگی اور عظمت اللہ ہی کے لائق ہے۔ اس کی عظمت کا تقاضا ہے کہ جب اس کا مقدس نام آ جائے تو انسان سر تسلیم خم کر دے۔ اور بساط بھر اس نام کی حرمت قائم رکھے،بشرطیکہ وہ غلط مطالبہ نہ ہو، یعنی شریعت کے خلاف نہ ہو اور اس سے کسی پر ظلم نہ ہوتا ہو اور نہ کسی کی حق تلفی۔
(2) اللہ تعالیٰ ہی عزت والا ہے۔ تمام بزرگی اور عظمت اللہ ہی کے لائق ہے۔ اس کی عظمت کا تقاضا ہے کہ جب اس کا مقدس نام آ جائے تو انسان سر تسلیم خم کر دے۔ اور بساط بھر اس نام کی حرمت قائم رکھے،بشرطیکہ وہ غلط مطالبہ نہ ہو، یعنی شریعت کے خلاف نہ ہو اور اس سے کسی پر ظلم نہ ہوتا ہو اور نہ کسی کی حق تلفی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2568 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1672 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جو شخص اللہ کے نام پر مانگے اسے دینے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دو، جو اللہ کے نام پر سوال کرے اسے دو، جو تمہیں دعوت دے اسے قبول کرو، اور جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے تم اس کا بدلہ دو، اگر تم بدلہ دینے کے لیے کچھ نہ پاؤ تو اس کے حق میں اس وقت تک دعا کرتے رہو جب تک کہ تم یہ نہ سمجھ لو کہ تم اسے بدلہ دے چکے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1672]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دو، جو اللہ کے نام پر سوال کرے اسے دو، جو تمہیں دعوت دے اسے قبول کرو، اور جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے تم اس کا بدلہ دو، اگر تم بدلہ دینے کے لیے کچھ نہ پاؤ تو اس کے حق میں اس وقت تک دعا کرتے رہو جب تک کہ تم یہ نہ سمجھ لو کہ تم اسے بدلہ دے چکے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1672]
1672. اردو حاشیہ: ➊ اللہ کے نام کا واسطہ دے کر مانگنا جائز ہے۔
➋ ایسے سائل کو دینے کا حکم اس لئے تاکیدی ہے۔کہ اس نے رب تعالیٰ کا عظیم واسطہ پیش کیا ہے۔اور اس نام کی عظمت کا لہاظ کرناچاہیے۔
➌ محسن کے احسان کا بدلہ دینا بھی لازمی امر اور حسن اخلاق کا حصہ ہے۔ اگر کوئی مال وغیرہ نہ ہوتو محسن کو کثرت سے دُعائے خیر دینی چاہیے۔جیسے کہ جامع ترمذی کی حدیث میں آتا ہے۔ جس شخص پر کوئی احسان کیا گیا اور اس نے جواب میں (جزاک اللہ خیرا) اللہ تمھیں بہترین بدلہ دے کہہ دیا تو اس نے اس کی مدح میں بہت مبالغہ کیا (جامع ترمذی البر والصلۃ حدیث 2035) ایک عظیم دُعا ہے۔بشرط یہ کہ ایمان ویقین سے دی جائے۔
➋ ایسے سائل کو دینے کا حکم اس لئے تاکیدی ہے۔کہ اس نے رب تعالیٰ کا عظیم واسطہ پیش کیا ہے۔اور اس نام کی عظمت کا لہاظ کرناچاہیے۔
➌ محسن کے احسان کا بدلہ دینا بھی لازمی امر اور حسن اخلاق کا حصہ ہے۔ اگر کوئی مال وغیرہ نہ ہوتو محسن کو کثرت سے دُعائے خیر دینی چاہیے۔جیسے کہ جامع ترمذی کی حدیث میں آتا ہے۔ جس شخص پر کوئی احسان کیا گیا اور اس نے جواب میں (جزاک اللہ خیرا) اللہ تمھیں بہترین بدلہ دے کہہ دیا تو اس نے اس کی مدح میں بہت مبالغہ کیا (جامع ترمذی البر والصلۃ حدیث 2035) ایک عظیم دُعا ہے۔بشرط یہ کہ ایمان ویقین سے دی جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1672 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1265 کی شرح از الشیخ عبدالسلام بھٹوی ✍️
اللہ کے نام پر کیا گیا سوال رد نہ کیا جائے
«وعن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبى صلى الله عليه وآله وسلم قال: من استعاذكم بالله فاعيذوه ومن سالكم بالله فاعطوه ومن اتى إليكم معروفا فكافئوه فإن لم تجدوا فادعوا له . اخرجه البيهقي»
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص تم سے اللہ کے نام کے ساتھ پناہ مانگے اسے پناہ دو اور جو شخص تم سے اللہ کے نام کے ساتھ سوال کرے اسے دو اور جو تم سے اچھا سلوک کرے اسے بدلہ دو اگر تم (بدلہ دینے کے لئے کوئی چیز) نہ پاؤ تو اس کے لئے دعا کرو۔ بيهقي۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع: 1265]
«وعن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبى صلى الله عليه وآله وسلم قال: من استعاذكم بالله فاعيذوه ومن سالكم بالله فاعطوه ومن اتى إليكم معروفا فكافئوه فإن لم تجدوا فادعوا له . اخرجه البيهقي»
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص تم سے اللہ کے نام کے ساتھ پناہ مانگے اسے پناہ دو اور جو شخص تم سے اللہ کے نام کے ساتھ سوال کرے اسے دو اور جو تم سے اچھا سلوک کرے اسے بدلہ دو اگر تم (بدلہ دینے کے لئے کوئی چیز) نہ پاؤ تو اس کے لئے دعا کرو۔ بيهقي۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع: 1265]
تخریج:
«صحيح»
[بيهقي 199/4]
[ حاكم 412/1 ]
[ احمد 99، 28/2]
[ ابونعيم فى الحلية 56/9] نے کئی سندوں سے عن اعمش عن مجاهد عن ابن عمر مرفوعاً روایت کیا ہے، حاکم نے فرمایا یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے، ذہبی نے اس کی موافقت کی اور البانی نے فرمایا۔ ان دونوں نے جو فرمایا یہی حقیقت ہے۔ “ [الصحيحة 254]
فوائد:
➊ ابوداؤد، ابن حبان اور حاکم نے اس روایت میں یہ لفظ زیادہ کئے ہیں: «فان لم تجدوا فادعوا له حتي تعلموا انكم قد كافاتموه» ، ”یعنی اگر تم تمہیں بدلہ دینے کے لئے کوئی چیز نہ ملے، تو اس کے لئے اتنی دعا کرو کہ تمہیں یقین ہو جائے تم نے اسے بدلہ دے دیا ہے۔“
ترمذی میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو کوئی عطیہ دیا جائے اگر وہ (کوئی چیز) پائے تو بدلہ دے جو نہ پائے وہ تعریف کر دے کیونکہ جس نے تعریف کی اس نے شکر ادا کیا اور جس نے (احسان کو) چھپایا اس نے ناشکری کی۔ [ترمذي البر 871]، [صحيح الترمذي 1656 ]
➋ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس شخص سے کوئی بھلائی کی جائے اور وہ بھلائی کرنے والے کو یہ کہے «جزاك الله خيرا» ”اللہ تجھے بہتر بدلہ دے“ تو اس نے تعریف کا حق ادا کیا۔ [ترمذي۔ البر88]، [ صحيح الترمذي 1657 ]
اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ آدمی یہ کہتا ہے کہ تمہارا احسان مجھ پر اتنا بڑا ہے کہ میں اس کا بدلہ نہیں دے سکتا اس کا بہتر بدلہ تجھے اللہ تعالیٰ ہی عطا فرمائے۔
➌ جو اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دو خواہ اسے تم سے کسی نقصان کا اندیشہ ہو یا کسی دوسرے سے۔ اللہ کے نام پر مانگے تو اسے دو۔ سائل کا ویسے ہی حق ہے مگر جب اللہ کا نام در میان میں آ جائے تو اس کی قدر کرنا لازم ہے۔
➍ مخلوق سے وہ چیز مانگ سکتا ہے جو اس کے اختیار میں ہو ہاں اگر مخلوق سے وہ چیز مانگے جو صرف اللہ کے اختیار میں ہے تو یہ شرک ہے۔ یہی معاملہ پناہ مانگنے کا ہے۔
«صحيح»
[بيهقي 199/4]
[ حاكم 412/1 ]
[ احمد 99، 28/2]
[ ابونعيم فى الحلية 56/9] نے کئی سندوں سے عن اعمش عن مجاهد عن ابن عمر مرفوعاً روایت کیا ہے، حاکم نے فرمایا یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے، ذہبی نے اس کی موافقت کی اور البانی نے فرمایا۔ ان دونوں نے جو فرمایا یہی حقیقت ہے۔ “ [الصحيحة 254]
فوائد:
➊ ابوداؤد، ابن حبان اور حاکم نے اس روایت میں یہ لفظ زیادہ کئے ہیں: «فان لم تجدوا فادعوا له حتي تعلموا انكم قد كافاتموه» ، ”یعنی اگر تم تمہیں بدلہ دینے کے لئے کوئی چیز نہ ملے، تو اس کے لئے اتنی دعا کرو کہ تمہیں یقین ہو جائے تم نے اسے بدلہ دے دیا ہے۔“
ترمذی میں جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو کوئی عطیہ دیا جائے اگر وہ (کوئی چیز) پائے تو بدلہ دے جو نہ پائے وہ تعریف کر دے کیونکہ جس نے تعریف کی اس نے شکر ادا کیا اور جس نے (احسان کو) چھپایا اس نے ناشکری کی۔ [ترمذي البر 871]، [صحيح الترمذي 1656 ]
➋ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس شخص سے کوئی بھلائی کی جائے اور وہ بھلائی کرنے والے کو یہ کہے «جزاك الله خيرا» ”اللہ تجھے بہتر بدلہ دے“ تو اس نے تعریف کا حق ادا کیا۔ [ترمذي۔ البر88]، [ صحيح الترمذي 1657 ]
اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ آدمی یہ کہتا ہے کہ تمہارا احسان مجھ پر اتنا بڑا ہے کہ میں اس کا بدلہ نہیں دے سکتا اس کا بہتر بدلہ تجھے اللہ تعالیٰ ہی عطا فرمائے۔
➌ جو اللہ کے نام پر پناہ مانگے اسے پناہ دو خواہ اسے تم سے کسی نقصان کا اندیشہ ہو یا کسی دوسرے سے۔ اللہ کے نام پر مانگے تو اسے دو۔ سائل کا ویسے ہی حق ہے مگر جب اللہ کا نام در میان میں آ جائے تو اس کی قدر کرنا لازم ہے۔
➍ مخلوق سے وہ چیز مانگ سکتا ہے جو اس کے اختیار میں ہو ہاں اگر مخلوق سے وہ چیز مانگے جو صرف اللہ کے اختیار میں ہے تو یہ شرک ہے۔ یہی معاملہ پناہ مانگنے کا ہے۔
درج بالا اقتباس شرح بلوغ المرام من ادلۃ الاحکام کتاب الجامع، حدیث/صفحہ نمبر: 98 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1265 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´نیکی اور صلہ رحمی کا بیان`
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ ’’ جو کوئی تم سے اللہ کی نام سے پناہ طلب کرے تو اس کو پناہ دو اور جو کوئی اللہ کے نام پر تم سے سوال کرے تو اس کو دو اور جو کوئی تم سے حسن سلوک و احسان کرے تو اس کو بدلہ دو اگر (پورا بدلہ دینے کی) طاقت و وسعت نہ ہو تو پھر اس کے حق میں دعا کرو۔ “ (سنن بیہقی) «بلوغ المرام/حدیث: 1265»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ ’’ جو کوئی تم سے اللہ کی نام سے پناہ طلب کرے تو اس کو پناہ دو اور جو کوئی اللہ کے نام پر تم سے سوال کرے تو اس کو دو اور جو کوئی تم سے حسن سلوک و احسان کرے تو اس کو بدلہ دو اگر (پورا بدلہ دینے کی) طاقت و وسعت نہ ہو تو پھر اس کے حق میں دعا کرو۔ “ (سنن بیہقی) «بلوغ المرام/حدیث: 1265»
تخریج:
«أخرجه البيهقي:4 /199، وأبوداود، الزكاة، حديث:1672، الأعمش عنعن، وللحديث شواهد ضعيفة.»
تشریح: 1. مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے۔
اورتصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۹ /۲۶۶‘۲۶۷‘ والصحیحۃ للألباني: ۱ /۵۱۰‘ ۵۱۱‘ رقم:۲۵۴) 2.اس حدیث میں اللہ کے نام پر پناہ طلب کرنے والے کو پناہ دینے اور اللہ کا نام لے کر سوال کرنے والے کو کچھ نہ کچھ ضرور دینے اور احسان کا بدلہ احسان سے دینے کی تاکید ہے۔
اللہ کے نام سے سوال کرنے والے کو حتی الوسع کچھ نہ کچھ دینا چاہیے۔
مگر دست سوال دراز کرنے والے کو اللہ کا واسطہ دینے سے بچنا چاہیے،تاہم پیشہ ور گداگروں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے تا کہ مسلم معاشرہ اس ناسور سے پاک ہو سکے۔
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ملعون ہے وہ جو اللہ کا نام لے کر سوال کرے اور وہ بھی ملعون ہے جس سے اللہ کے نام پر سوال کیا جائے اور وہ کچھ بھی نہ دے بشرطیکہ وہ سوال کسی بری چیز کا نہ ہو۔
‘‘ (المعجم الکبیر للطبراني:۲۲ /۳۷۷‘ و مجمع الزوائد:۳ /۱۰۳) بہرحال اللہ تعالیٰ کا نام لے کر سوال کرنا دوسرے کو بھی مشکل میں ڈال دیتا ہے‘ اس لیے بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔
«أخرجه البيهقي:4 /199، وأبوداود، الزكاة، حديث:1672، الأعمش عنعن، وللحديث شواهد ضعيفة.»
تشریح: 1. مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے۔
اورتصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد:۹ /۲۶۶‘۲۶۷‘ والصحیحۃ للألباني: ۱ /۵۱۰‘ ۵۱۱‘ رقم:۲۵۴) 2.اس حدیث میں اللہ کے نام پر پناہ طلب کرنے والے کو پناہ دینے اور اللہ کا نام لے کر سوال کرنے والے کو کچھ نہ کچھ ضرور دینے اور احسان کا بدلہ احسان سے دینے کی تاکید ہے۔
اللہ کے نام سے سوال کرنے والے کو حتی الوسع کچھ نہ کچھ دینا چاہیے۔
مگر دست سوال دراز کرنے والے کو اللہ کا واسطہ دینے سے بچنا چاہیے،تاہم پیشہ ور گداگروں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے تا کہ مسلم معاشرہ اس ناسور سے پاک ہو سکے۔
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ملعون ہے وہ جو اللہ کا نام لے کر سوال کرے اور وہ بھی ملعون ہے جس سے اللہ کے نام پر سوال کیا جائے اور وہ کچھ بھی نہ دے بشرطیکہ وہ سوال کسی بری چیز کا نہ ہو۔
‘‘ (المعجم الکبیر للطبراني:۲۲ /۳۷۷‘ و مجمع الزوائد:۳ /۱۰۳) بہرحال اللہ تعالیٰ کا نام لے کر سوال کرنا دوسرے کو بھی مشکل میں ڈال دیتا ہے‘ اس لیے بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1265 سے ماخوذ ہے۔