سنن ابي داود
أبواب النوم— ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي الرَّجُلِ يَسْتَعِيذُ مِنَ الرَّجُلِ باب: آدمی آدمی سے اللہ کا نام لے کر پناہ مانگے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 5108
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ , قَالَا : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، قَالَ نَصْرٌ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ ،عَنْ أَبِي نَهِيكٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنِ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ ، وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِوَجْهِ اللَّهِ فَأَعْطُوهُ " , قال عُبَيْدُ اللَّهِ : مَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اللہ کے واسطے سے پناہ مانگے اسے پناہ دو ، اور جو شخص لوجہ اللہ ( اللہ کی رضا و خوشنودی کا حوالہ دے کر ) سوال کرے تو اس کو دو “ ۔ عبیداللہ کی روایت میں «من سألكم لوجه الله» کے بجائے «من سألكم بالله» ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آدمی آدمی سے اللہ کا نام لے کر پناہ مانگے تو کیسا ہے؟`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص اللہ کے واسطے سے پناہ مانگے اسے پناہ دو، اور جو شخص لوجہ اللہ (اللہ کی رضا و خوشنودی کا حوالہ دے کر) سوال کرے تو اس کو دو۔“ عبیداللہ کی روایت میں «من سألكم لوجه الله» کے بجائے «من سألكم بالله» ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5108]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص اللہ کے واسطے سے پناہ مانگے اسے پناہ دو، اور جو شخص لوجہ اللہ (اللہ کی رضا و خوشنودی کا حوالہ دے کر) سوال کرے تو اس کو دو۔“ عبیداللہ کی روایت میں «من سألكم لوجه الله» کے بجائے «من سألكم بالله» ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5108]
فوائد ومسائل:
اس میں ترغیب یہ ہے کہ مانگنے والے نے جس عظیم ذات کا واسطہ دیا ہے۔
اس کے نام کا لحاظ کرتے ہوئے جو کچھ تم سے ہو سکتا ہے۔
اس میں بخل نہ کرو۔
بعض محققین نے اس روایت کو حسن صحیح کہا ہے۔
دیکھیئے۔
(الصحیحة، حدیث: 253)
اس میں ترغیب یہ ہے کہ مانگنے والے نے جس عظیم ذات کا واسطہ دیا ہے۔
اس کے نام کا لحاظ کرتے ہوئے جو کچھ تم سے ہو سکتا ہے۔
اس میں بخل نہ کرو۔
بعض محققین نے اس روایت کو حسن صحیح کہا ہے۔
دیکھیئے۔
(الصحیحة، حدیث: 253)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5108 سے ماخوذ ہے۔