حدیث نمبر: 5107
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ حُمَيْدٍ ،عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قال لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ رُئِيَ ، أَوْ كَلِمَةً غَيْرَهَا فِيكُمُ الْمُغَرِّبُونَ ؟ قُلْتُ : وَمَا الْمُغَرِّبُونَ ؟ قَالَ : الَّذِينَ يَشْتَرِكُ فِيهِمُ الْجِنُّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” کیا تم میں «مغربون» دیکھے گئے ہیں “ آپ نے ” دیکھے گئے ہیں “ کہا یا اسی طرح کا کوئی اور لفظ کہا ، میں نے پوچھا : «مغربون» کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” وہ لوگ جن میں جنوں کی شرکت ہو ۱؎ “ ۔

وضاحت:
۱؎: یہ شرکت چاہے اللہ کی یاد سے غفلت اور شیطان کی اتباع کی وجہ سے ہو یا زنا کی اولاد ہونے کی وجہ سے ہو، یا شیاطین کی صحبت سے پیدا ہوئے ہوں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5107
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن جريج عنعن وأبوه : لين وأم حميد لا يعرف حالھا (تق: 4087،8726), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 177
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17978) (ضعیف الإسناد) » (اس کی راویہ ام حمید مجہول ہیں)