حدیث نمبر: 5105
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ بِالصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسن بن علی کے کان میں جس وقت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں جنا اذان کہتے دیکھا جیسے نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5105
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1514), عاصم بن عبيداللّٰه : ضعيف, وللحديث شاهدان عند البيهقي في شعب الإيمان (8619 عن الحسين بن علي) و (8620 عن ابن عباس) في الأول يحيي بن العلاء وھو كذاب, وفي الثاني محمد بن يونس الكديمي : كذاب وشيخه وشيخ شيخه ضعيفان, وأما الأذان في أذن المولود فصحيح بالإتفاق, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 177
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الأضاحی 17 (1514)، (تحفة الأشراف: 12020)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/9، 391، 392) (ضعیف) » (اس کے راوی عاصم ضعیف ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بچہ پیدا ہو تو اس کے کان میں اذان دینا کیسا ہے؟`
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسن بن علی کے کان میں جس وقت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں جنا اذان کہتے دیکھا جیسے نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5105]
فوائد ومسائل:

اس عمل کی حکمت ظاہر ہے کہ اس سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان اور اسلام کے اہم ترین شعار سے تعلق کا اظہار ہے اور ان مبارک کلمات سے تبرک حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے کہ اللہ عزوجل اس نومولود کو کامیابی کی اس راہ پر گامزن فرمائے اور شیطان کے اثر سے محفوظ رکھے۔
آمین

بچے کے کان میں ازان کہنے والی یہ روایت تو سندا ثابت نہیں ہے۔
تاہم آج تک امت میں اس پر عمل ہوتا آرہا ہے۔
اور امت کا یہ عملی تواتر ہی اس کے جواز کی بنیاد ہے۔
شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اذان دینے کی حد تک کچھ نہ کچھ اصل تسلیم کی ہے۔
دوسرے کان میں تکبیرکی نہیں دیکھئے۔
(الضعیفة: 329/1، 331حدیث 312) تاہم اس عمل کے مسنون ہونے کی دلیل ہمارے علم میں نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5105 سے ماخوذ ہے۔