سنن ابي داود
أبواب النوم— ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
باب نهيق الحمير ونباح الكلاب باب: گدھوں کا رینکنا اور کتوں کا بھونکنا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ وَغَيْرِهِ ، قَالَا : قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِلُّوا الْخُرُوجَ بَعْدَ هَدْأَةِ الرِّجْلِ ، فَإِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى دَوَابَّ يَبُثُّهُنَّ فِي الْأَرْضِ " , قال ابْنُ مَرْوَانَ : فِي تِلْكَ السَّاعَةِ ، وَقَالَ : فَإِنَّ لِلَّهِ خَلْقًا ، ثُمَّ ذَكَرَ نُبَاحَ الْكَلْبِ وَالْحَمِيرَ نَحْوَهُ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ ابْنُ الْهَادِ : وَحَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ الْحَاجِبُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
´علی بن عمر بن حسین بن علی اور ان کے علاوہ ایک اور شخص سے روایت ہے ، وہ دونوں ( مرسلاً ) کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( رات میں ) آمدورفت بند ہو جانے ( اور سناٹا چھا جانے ) کے بعد گھر سے کم نکلا کرو ، کیونکہ اللہ کے کچھ چوپائے ہیں جنہیں اللہ چھوڑ دیتا ہے ، ( وہ رات میں آزاد پھرتے ہیں اور نقصان پہنچا سکتے ہیں ) ( ابن مروان کی روایت میں «في تلك الساعة» کے الفاظ ہیں اور اس میں «فإن لله تعالى دواب» کے بجائے «فإن لله خلقا» ہے ) ، پھر راوی نے کتے کے بھونکنے اور گدھے کے رینکنے کا اسی طرح ذکر کیا ہے ، اور اپنی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ابن الہاد کہتے ہیں : مجھ سے شرحبیل بن حاجب نے بیان کیا ہے انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اور جابر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
علی بن عمر بن حسین بن علی اور ان کے علاوہ ایک اور شخص سے روایت ہے، وہ دونوں (مرسلاً) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” (رات میں) آمدورفت بند ہو جانے (اور سناٹا چھا جانے) کے بعد گھر سے کم نکلا کرو، کیونکہ اللہ کے کچھ چوپائے ہیں جنہیں اللہ چھوڑ دیتا ہے، (وہ رات میں آزاد پھرتے ہیں اور نقصان پہنچا سکتے ہیں) (ابن مروان کی روایت میں «في تلك الساعة» کے الفاظ ہیں اور اس میں «فإن لله تعالى دواب» کے بجائے «فإن لله خلقا» ہے)، پھر راوی نے کتے کے بھونکنے اور گدھے کے رینکنے کا اسی طرح ذکر کیا ہے، اور اپنی روایت میں اتنا اضافہ ہے ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5104]
1۔
رات کو جب راستوں پر لوگوں کی آمد ورفت رک جائے تو ازحد ضروری کام کے بغیر باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہیے۔
2۔
رات کو کتوں یا گدھوں کی آواز سنائی دے تو أعوذ بالله من الشيطان الرجيم پڑھنا چاہیے۔