حدیث نمبر: 5104
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ وَغَيْرِهِ ، قَالَا : قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِلُّوا الْخُرُوجَ بَعْدَ هَدْأَةِ الرِّجْلِ ، فَإِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى دَوَابَّ يَبُثُّهُنَّ فِي الْأَرْضِ " , قال ابْنُ مَرْوَانَ : فِي تِلْكَ السَّاعَةِ ، وَقَالَ : فَإِنَّ لِلَّهِ خَلْقًا ، ثُمَّ ذَكَرَ نُبَاحَ الْكَلْبِ وَالْحَمِيرَ نَحْوَهُ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِهِ ، قَالَ ابْنُ الْهَادِ : وَحَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ الْحَاجِبُ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی بن عمر بن حسین بن علی اور ان کے علاوہ ایک اور شخص سے روایت ہے ، وہ دونوں ( مرسلاً ) کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( رات میں ) آمدورفت بند ہو جانے ( اور سناٹا چھا جانے ) کے بعد گھر سے کم نکلا کرو ، کیونکہ اللہ کے کچھ چوپائے ہیں جنہیں اللہ چھوڑ دیتا ہے ، ( وہ رات میں آزاد پھرتے ہیں اور نقصان پہنچا سکتے ہیں ) ( ابن مروان کی روایت میں «في تلك الساعة» کے الفاظ ہیں اور اس میں «فإن لله تعالى دواب» کے بجائے «فإن لله خلقا» ہے ) ، پھر راوی نے کتے کے بھونکنے اور گدھے کے رینکنے کا اسی طرح ذکر کیا ہے ، اور اپنی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ابن الہاد کہتے ہیں : مجھ سے شرحبیل بن حاجب نے بیان کیا ہے انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اور جابر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5104
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سعيد بن زياد الأنصاري المدني مجهول (تق : 2309) وشرحبيل ضعيف (تقدم : 2866), وللحديث شواھد ضعيفة والحديث السابق (الأصل : 5103) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19138، 2255، 2278)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/355) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 5103

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´گدھوں کا رینکنا اور کتوں کا بھونکنا۔`
علی بن عمر بن حسین بن علی اور ان کے علاوہ ایک اور شخص سے روایت ہے، وہ دونوں (مرسلاً) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (رات میں) آمدورفت بند ہو جانے (اور سناٹا چھا جانے) کے بعد گھر سے کم نکلا کرو، کیونکہ اللہ کے کچھ چوپائے ہیں جنہیں اللہ چھوڑ دیتا ہے، (وہ رات میں آزاد پھرتے ہیں اور نقصان پہنچا سکتے ہیں) (ابن مروان کی روایت میں «في تلك الساعة» کے الفاظ ہیں اور اس میں «فإن لله تعالى دواب» کے بجائے «فإن لله خلقا» ہے)، پھر راوی نے کتے کے بھونکنے اور گدھے کے رینکنے کا اسی طرح ذکر کیا ہے، اور اپنی روایت میں اتنا اضافہ ہے ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5104]
فوائد ومسائل:

رات کو جب راستوں پر لوگوں کی آمد ورفت رک جائے تو ازحد ضروری کام کے بغیر باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہیے۔


رات کو کتوں یا گدھوں کی آواز سنائی دے تو  أعوذ بالله من الشيطان الرجيم پڑھنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5104 سے ماخوذ ہے۔