حدیث نمبر: 5103
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ عَبْدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْكِلَابِ وَنَهِيقَ الْحُمُرِ بِاللَّيْلِ ، فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ ، فَإِنَّهُنَّ يَرَيْنَ مَا لَا تَرَوْنَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم رات میں کتوں کا بھونکنا اور گدھوں کا رینکنا سنو تو اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ وہ ایسی چیزیں دیکھتے ہیں جنہیں تم نہیں دیکھتے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5103
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (4302), ابن إسحاق صرح بالسماع عند أبي يعلي (4/ 211 ح 2327)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2496)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/306) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 5104

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5104 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´گدھوں کا رینکنا اور کتوں کا بھونکنا۔`
علی بن عمر بن حسین بن علی اور ان کے علاوہ ایک اور شخص سے روایت ہے، وہ دونوں (مرسلاً) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (رات میں) آمدورفت بند ہو جانے (اور سناٹا چھا جانے) کے بعد گھر سے کم نکلا کرو، کیونکہ اللہ کے کچھ چوپائے ہیں جنہیں اللہ چھوڑ دیتا ہے، (وہ رات میں آزاد پھرتے ہیں اور نقصان پہنچا سکتے ہیں) (ابن مروان کی روایت میں «في تلك الساعة» کے الفاظ ہیں اور اس میں «فإن لله تعالى دواب» کے بجائے «فإن لله خلقا» ہے)، پھر راوی نے کتے کے بھونکنے اور گدھے کے رینکنے کا اسی طرح ذکر کیا ہے، اور اپنی روایت میں اتنا اضافہ ہے ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5104]
فوائد ومسائل:

رات کو جب راستوں پر لوگوں کی آمد ورفت رک جائے تو ازحد ضروری کام کے بغیر باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہیے۔


رات کو کتوں یا گدھوں کی آواز سنائی دے تو  أعوذ بالله من الشيطان الرجيم پڑھنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5104 سے ماخوذ ہے۔