حدیث نمبر: 5101
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسُبُّوا الدِّيكَ ، فَإِنَّهُ يُوقِظُ لِلصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زید بن خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مرغ کو برا بھلا نہ کہو ، کیونکہ وہ نماز فجر کے لیے جگاتا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5101
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (4136)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3758)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4 /115، 5/193) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : مسند الحميدي: 833

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مرغ اور چوپایوں کا بیان۔`
زید بن خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرغ کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ وہ نماز فجر کے لیے جگاتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5101]
فوائد ومسائل:
مرغ کو یہ کرامت اور عزت نماز کےلئے جگانے کے باعث ملی ہے۔
تو مساجد کے موذن امام اور علمائے دین کی عزت وتکریم اور زیادہ ہونی چاہیے۔
۔
۔
مگر ساتھ ہی ان حضرات پر بالاولیٰ واجب ہے کہ داعیان خیر اور وارث نبی ہونے کے ناتے اس شرف کی بہت زیادہ حفاظت کریں اور خلاف شرع امور سے اپنے آپ کو از حد بچایئں۔
وباللہ التوفیق۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5101 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 833 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
833-عبیداللہ بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: (یہاں سفیان نامی راوی کہتے ہیں: مجھے یہ نہیں پتہ کہ انہوں نے یہ روایت سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان کی ہے یا کسی اور کے حوالے سے بیان کی ہے) وہ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مرغ کو برا کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مر غ کو برانہ کہو۔ کیونکہ وہ نماز کے لیے بلاتا ہے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:833]
فائدہ:
مرغ کو یہ عزت و تکریم اس لیے ملی کہ یہ نماز کے لیے جگانے کا سبب بنتا ہے۔ تو مساجد کے موذن، امام، علمائے دین کی تو اور زیادہ عزت و تکریم کرنی چاہیے کیونکہ یہ داعیان خیر اور وارث نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہونے کے ناتے اس شرف کی بہت زیادہ حفاظت کریں۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 833 سے ماخوذ ہے۔