سنن ابي داود
أبواب النوم— ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الْمَطَرِ باب: بارش کا بیان۔
حدیث نمبر: 5100
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , وَمُسَدَّدٌ الْمَعْنَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطَرٌ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَسَرَ ثَوْبَهُ عَنْهُ حَتَّى أَصَابَهُ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا ؟ قَالَ : لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بارش ہونے لگی ، آپ باہر نکلے اور اپنے کپڑے اتار لیے یہاں تک کہ بارش کے قطرات آپ کے بدن پر پڑنے لگے ، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ آپ نے فرمایا : ” اس لیے کہ یہ ابھی ابھی اپنے رب کے پاس سے آ رہی ہے ۱؎ “ ۔
وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے رب عزوجل کا بلندی پر ہونا ثابت ہے جب کہ قرآن و احادیث اور عقائد سلف صالحین سے قطعیت کے ساتھ معلوم ہے، اور یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بدن پر بارش کا گرنا برکت کا باعث ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بارش کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بارش ہونے لگی، آپ باہر نکلے اور اپنے کپڑے اتار لیے یہاں تک کہ بارش کے قطرات آپ کے بدن پر پڑنے لگے، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ نے فرمایا: ” اس لیے کہ یہ ابھی ابھی اپنے رب کے پاس سے آ رہی ہے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5100]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بارش ہونے لگی، آپ باہر نکلے اور اپنے کپڑے اتار لیے یہاں تک کہ بارش کے قطرات آپ کے بدن پر پڑنے لگے، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ نے فرمایا: ” اس لیے کہ یہ ابھی ابھی اپنے رب کے پاس سے آ رہی ہے ۱؎۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5100]
فوائد ومسائل:
1۔
تبرک حاصل کرنے کی غرض سے بارش میں نہانا مستحب ہے۔
اور تبرک کا مسئلہ توفیقی ہے قیاسی نہیں۔
2۔
اس میں اللہ عزوجل کےلئے جہت علو (آسمان پر ہونے) کا بیان بھی ہے۔
1۔
تبرک حاصل کرنے کی غرض سے بارش میں نہانا مستحب ہے۔
اور تبرک کا مسئلہ توفیقی ہے قیاسی نہیں۔
2۔
اس میں اللہ عزوجل کےلئے جہت علو (آسمان پر ہونے) کا بیان بھی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5100 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 898 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم پر بارش برسنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا کپڑا بدن سے اٹھا دیا حتیٰ کہ بارش آپﷺ کے بدن پر گرنے لگی، ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ نے فرمایا: ’’کیونکہ وہ اپنے رب کے حکم سے اس کے پاس سے نئی نئی آ رہی ہے‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2083]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہواکہ بارش کا بند کرنا اور اس کا برسانا اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے۔
وہ جب چاہے روک لے کہ جب چاہے برسا دے، خواہ اس کے ظاہری اسباب کچھ ہی ہوں، اور اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ اوپر ہے، کیونکہ آپﷺ نے فرمایا: اپنے رب کے پاس سے نئی نئی آ رہی ہے اور بارش اوپر سے آتی ہے۔
اس لیے اس سے برکت حاصل کرنا پسندیدہ ہے۔
وہ جب چاہے روک لے کہ جب چاہے برسا دے، خواہ اس کے ظاہری اسباب کچھ ہی ہوں، اور اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ اوپر ہے، کیونکہ آپﷺ نے فرمایا: اپنے رب کے پاس سے نئی نئی آ رہی ہے اور بارش اوپر سے آتی ہے۔
اس لیے اس سے برکت حاصل کرنا پسندیدہ ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 898 سے ماخوذ ہے۔