سنن ابي داود
أبواب النوم— ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا يَقُولُ إِذَا هَاجَتِ الرِّيحُ باب: جب آندھی آئے تو کیا پڑھے؟
حدیث نمبر: 5097
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ , وَسَلَمَةُ يَعْنِيَ ابْنَ شَبِيبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ ، قَالَ سَلَمَةُ : فَرَوْحُ اللَّهِ تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ ، وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا ، فَلَا تَسُبُّوهَا وَسَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا ، وَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : «ریح» ( ہوا ) اللہ کی رحمت میں سے ہے ( سلمہ کی روایت میں «من روح الله» ہے ) ، کبھی وہ رحمت لے کر آتی ہے ، اور کبھی عذاب لے کر آتی ہے ، تو جب تم اسے دیکھو تو اسے برا مت کہو ، اللہ سے اس کی بھلائی مانگو ، اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہو ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جب آندھی آئے تو کیا پڑھے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: «ریح» (ہوا) اللہ کی رحمت میں سے ہے (سلمہ کی روایت میں «من روح الله» ہے)، کبھی وہ رحمت لے کر آتی ہے، اور کبھی عذاب لے کر آتی ہے، تو جب تم اسے دیکھو تو اسے برا مت کہو، اللہ سے اس کی بھلائی مانگو، اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہو۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5097]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: «ریح» (ہوا) اللہ کی رحمت میں سے ہے (سلمہ کی روایت میں «من روح الله» ہے)، کبھی وہ رحمت لے کر آتی ہے، اور کبھی عذاب لے کر آتی ہے، تو جب تم اسے دیکھو تو اسے برا مت کہو، اللہ سے اس کی بھلائی مانگو، اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ چاہو۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5097]
فوائد ومسائل:
صحیح مسلم میں اس دُعا کے الفاظ یوں ہیں۔
(اللهم إني أسألُكَ خيرَها وخيرَ ما فيها وخيرَ ما أُرسِلَت به و أعوذُ بِك من شرِّها وشرِّ ما فيها وشرِّ ما أُرسِلَتْ به) (صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 899)
صحیح مسلم میں اس دُعا کے الفاظ یوں ہیں۔
(اللهم إني أسألُكَ خيرَها وخيرَ ما فيها وخيرَ ما أُرسِلَت به و أعوذُ بِك من شرِّها وشرِّ ما فيها وشرِّ ما أُرسِلَتْ به) (صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 899)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5097 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3727 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ہوا کو برا بھلا کہنے کی ممانعت۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہوا کو برا نہ کہو، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت میں سے ہے، وہ رحمت بھی لاتی ہے اور عذاب بھی لاتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3727]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہوا کو برا نہ کہو، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت میں سے ہے، وہ رحمت بھی لاتی ہے اور عذاب بھی لاتی ہے، البتہ اللہ تعالیٰ سے اس کی بھلائی کا سوال کرو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3727]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
ہوا اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے جس کے بغیر انسان کی زندگی ممکن نہیں لیکن یہی ہوا اللہ کے حکم سے آندھی اور طوفان بن کر تباہی کا باعث بھی بن جاتی ہے۔
(2)
رحمت اور عذاب اللہ کے اختیار میں ہے، اس لیے اسی سے امید اور خوف رکھنا چاہیے۔
(3)
تیز ہوا اور آندھی کے موقع پر رسول اللہ اس طرح دعا فرماتے تھے۔ (اللهم إني أسألك خيرها وخير ما فيها وخير ما أرسلت به وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها وشر ما أرسلت به) (صحيح مسلم، صلاة الاستسقاء، باب العوذ عند رؤية الريح والغيم، والفرح بالمطر، حديث: 899)
’’یا اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی، جو کچھ اس میں ہے اس کی بھلائی اور جو کچھ اسے دے کر بھیجا گیا ہے اس کی بھلائی مانگتا ہوں۔
اور میں اس کی برائی سے، جو کچھ اس میں ہے اس کی برائی سے، اور جو کچھ دے کر اسے بھیجا گیا ہے اس کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘
جس طرح انسانوں کو گالی دینا گناہ ہے، اسی طرح جانوروں اور بے جان مخلوق کو گالی دینا برا کام ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
ہوا اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے جس کے بغیر انسان کی زندگی ممکن نہیں لیکن یہی ہوا اللہ کے حکم سے آندھی اور طوفان بن کر تباہی کا باعث بھی بن جاتی ہے۔
(2)
رحمت اور عذاب اللہ کے اختیار میں ہے، اس لیے اسی سے امید اور خوف رکھنا چاہیے۔
(3)
تیز ہوا اور آندھی کے موقع پر رسول اللہ اس طرح دعا فرماتے تھے۔ (اللهم إني أسألك خيرها وخير ما فيها وخير ما أرسلت به وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها وشر ما أرسلت به) (صحيح مسلم، صلاة الاستسقاء، باب العوذ عند رؤية الريح والغيم، والفرح بالمطر، حديث: 899)
’’یا اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی، جو کچھ اس میں ہے اس کی بھلائی اور جو کچھ اسے دے کر بھیجا گیا ہے اس کی بھلائی مانگتا ہوں۔
اور میں اس کی برائی سے، جو کچھ اس میں ہے اس کی برائی سے، اور جو کچھ دے کر اسے بھیجا گیا ہے اس کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘
جس طرح انسانوں کو گالی دینا گناہ ہے، اسی طرح جانوروں اور بے جان مخلوق کو گالی دینا برا کام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3727 سے ماخوذ ہے۔