حدیث نمبر: 5093
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ حُباب أَخْبَرَهُمْ ، عَنْ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ صَرَفَ وَجْهَهُ عَنْهُ " , قَالَ أَبُو دَاوُدَ : لَيْسَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْباب حَدِيثٌ مُسْنَدٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´قتادہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے تو آپ اس سے اپنا منہ پھیر لیتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باب میں کوئی صحیح مسند حدیث نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5093
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, السند مرسل, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد) » (یہ روایت مرسل ہے، نیز قتادہ مدلس ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آدمی نیا چاند دیکھے تو کیا کہے؟`
قتادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے تو آپ اس سے اپنا منہ پھیر لیتے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس باب میں کوئی صحیح مسند حدیث نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5093]
فوائد ومسائل:
امام ابو دائود رحمۃ اللہ علیہ کے قول اس مسئلے میں کوئی مرفوع حدیث ثابت نہیں سے مراد یہ ہے کہ دعا پڑھنے کے طریقے کی بابت کوئی مرفوع حدیث ثابت نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5093 سے ماخوذ ہے۔