حدیث نمبر: 5092
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّهُ بَلَغَهُ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ ، قَالَ : " هِلَالُ خَيْرٍ ، وَرُشْدٍ هِلَالُ خَيْرٍ ، وَرُشْدٍ هِلَالُ خَيْرٍ ، وَرُشْدٍ آمَنْتُ بِالَّذِي خَلَقَكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ يَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي ذَهَبَ بِشَهْرِ كَذَا ، وَجَاءَ بِشَهْرِ كَذَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´قتادہ کہتے ہیں کہ` انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے تو فرماتے : «هلال خير ورشد هلال خير ورشد هلال خير ورشد آمنت بالذي خلقك» ” یہ خیر و رشد کا چاند ہے ، یہ خیر و رشد کا چاند ہے ، یہ خیر و رشد کا چاند ہے ، میں ایمان لایا اس پر جس نے تجھے پیدا کیا ہے “ یہ تین مرتبہ فرماتے ، پھر فرماتے : شکر ہے ، اس اللہ کا جو فلاں مہینہ لے گیا اور فلاں مہینہ لے آیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5092
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, السند مرسل،وروي متصلاً ولا يصح كما قال الإمام أبو داود رحمه اللّٰه في كتاب المراسيل (527), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 176
تخریج حدیث « تفرد بہ ابو داود (ضعیف الإسناد) » (سند میں قتادہ تابعی اور نبی اکرم صلی+اللہ+علیہ+وسلم کے درمیان انقطاع ہے، معلوم نہیں کہ تابعی کو ساقط کیا ہے یا صحابی کو، جب کہ قتادہ مدلس بھی ہیں )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´آدمی نیا چاند دیکھے تو کیا کہے؟`
قتادہ کہتے ہیں کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا چاند دیکھتے تو فرماتے: «هلال خير ورشد هلال خير ورشد هلال خير ورشد آمنت بالذي خلقك» یہ خیر و رشد کا چاند ہے، یہ خیر و رشد کا چاند ہے، یہ خیر و رشد کا چاند ہے، میں ایمان لایا اس پر جس نے تجھے پیدا کیا ہے یہ تین مرتبہ فرماتے، پھر فرماتے: شکر ہے، اس اللہ کا جو فلاں مہینہ لے گیا اور فلاں مہینہ لے آیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5092]
فوائد ومسائل:
مذکورہ دعا باتفاق محققین ضعیف ہے، تاہم ایک دوسری دعا مسند احمد اور جامع الترمذی میں ہے جس کی بابت علمائے محققین لکھتے ہیں۔
حسن لشواھدہ یعنی یہ دُعا شواہد کی بنا پر حسن درجے کی ہے۔
اور وہ دعا یہ ہے۔
الله اكبراللَّهُمَّ أهِلَّه علينا بالأمنِ والإيمانِ، والسَّلامةِ والإسلامِ، رَبُّنا ورَبُّك اللهُ۔
(مسند احمد162/1 وجامع الترمذی الدعوات حدیث 3451) جب کہ ایک دعا سنن دارمی میں بھی ہے۔
جس کے الفاظ یہ ہیں۔
  الله اكبراللَّهُمَّ أهِلَّه علينا بالأمنِ والإيمانِ، والسَّلامةِ والإسلامِ، والتَّوفيقِ لِما تحِبُّ وترضى، رَبُّنا ورَبُّك اللهُ (سنن دارمي، الصوم، باب ما یقال عند رؤیة الھلال، حدیث 1693) لہذا ان دو دعائوں میں سے کسی ایک کوچانددیکھتے ہوئے پڑھا جاسکتا ہے۔
تفصیل کےلئے دیکھئے۔
(الموسوعة الحدیثیة، مسند إمام أحمد: 317/3، 381، حدیث 1397 و صحیح سنن الترمذي للألباني: 3/157 حدیث 3451)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5092 سے ماخوذ ہے۔