سنن ابي داود
أبواب النوم— ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ باب: صبح کے وقت کیا پڑھے؟
حدیث نمبر: 5091
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ : سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ ، وَإِذَا أَمْسَى كَذَلِكَ ، لَمْ يُوَافِ أَحَدٌ مِنَ الْخَلَائِقِ بِمِثْلِ مَا وَافَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص «سبحان الله العظيم وبحمده» سو مرتبہ صبح پڑھے اور اسی طرح شام کو بھی سو مرتبہ پڑھے تو اس کے برابر مخلوق میں کسی کا درجہ نہیں ہو سکتا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´صبح کے وقت کیا پڑھے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص «سبحان الله العظيم وبحمده» سو مرتبہ صبح پڑھے اور اسی طرح شام کو بھی سو مرتبہ پڑھے تو اس کے برابر مخلوق میں کسی کا درجہ نہیں ہو سکتا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5091]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص «سبحان الله العظيم وبحمده» سو مرتبہ صبح پڑھے اور اسی طرح شام کو بھی سو مرتبہ پڑھے تو اس کے برابر مخلوق میں کسی کا درجہ نہیں ہو سکتا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5091]
فوائد ومسائل:
صحیح مسلم کی روایت میں العظیم کا لفظ نہیں ہے۔
(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، حدیث: 2692)
صحیح مسلم کی روایت میں العظیم کا لفظ نہیں ہے۔
(صحیح مسلم، الذکر والدعاء، حدیث: 2692)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5091 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2693 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عمرو بن میمون رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں جو انسان "لَا إِلَهَ إلا الله وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ له‘ له الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وهو على كل شَيْءٍ قَدِيرٌ"دس دفعہ کہتا ہے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو حضرت اسماعیل کی اولاد سے چار غلام آزاد کرتا ہے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6844]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: یہ حدیث بخاری شریف میں حضرت ابو ایوب انصاری سے مرفوعا منقول ہے، لیکن اس میں ایک گردن کا ذکر ہے، مسند احمد میں چار کا ذکر ہے اور امام مسلم نے بھی آگے وضاحت کر دی ہے کہ عمرو بن میمون نے یہ حدیث ابن ابی لیلیٰ سے سنی ہے اور ابن ابی لیلیٰ نے حضرت ابو ایوب انصاری سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2693 سے ماخوذ ہے۔