سنن ابي داود
أبواب النوم— ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ باب: صبح کے وقت کیا پڑھے؟
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الْجَلِيلِ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ لِأَبِيهِ : " يَا أَبَتِ إِنِّي أَسْمَعُكَ تَدْعُو كُلَّ غَدَاةٍ : اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي ، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي ، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ تُعِيدُهَا ثَلَاثًا حِينَ تُصْبِحُ وَثَلَاثًا حِينَ تُمْسِي ، فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِنَّ ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَسْتَنَّ بِسُنَّتِهِ , قال عَبَّاسٌ فِيهِ : وَتَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ تُعِيدُهَا ثَلَاثًا حِينَ تُصْبِحُ وَثَلَاثًا حِينَ تُمْسِي فَتَدْعُو بِهِنَّ ، فَأُحِبُّ أَنْ أَسْتَنَّ بِسُنَّتِهِ , قال : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعَوَاتُ الْمَكْرُوبِ : اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو ، فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ " , وَبَعْضُهُمْ يَزِيدُ عَلَى صَاحِبِهِ .
´عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اپنے والد سے کہا` ابو جان ! میں آپ کو ہر صبح یہ دعا پڑھتے ہوئے سنتا ہوں «اللهم عافني في بدني اللهم عافني في سمعي اللهم عافني في بصري لا إله إلا أنت» ” اے اللہ ! تو میرے جسم کو عافیت نصیب کر ، اے اللہ ! تو میرے کان کو عافیت عطا کر ، اے اللہ ! تو میری نگاہ کو عافیت سے نواز دے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں “ آپ اسے تین مرتبہ دہراتے ہیں جب صبح کرتے ہیں اور تین مرتبہ جب شام کرتے ہیں ؟ ، تو انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی دعا کرتے ہوئے سنا ہے ، اور مجھے پسند ہے کہ میں آپ کا مسنون طریقہ اپناؤں ۔ عباس بن عبدالعظیم کی روایت میں اتنا مزید ہے کہ آپ کہتے «اللهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر لا إله إلا أنت» ” اے اللہ ! میں کفر و محتاجی سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، اے اللہ ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ، تو ہی معبود برحق ہے “ تین مرتبہ اسے صبح دہراتے اور تین مرتبہ اسے شام میں ، ان کے ذریعہ آپ دعا کرتے تو میں پسند کرتا ہوں کہ آپ کی سنت کا طریقہ اپناؤں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مصیبت زدہ و پریشان حال کے لیے یہ دعا ہے «اللهم رحمتك أرجو فلا تكلني إلى نفسي طرفة عين وأصلح لي شأني كله لا إله إلا أنت» ” اے اللہ ! میں تیری ہی رحمت چاہتا ہوں ، تو مجھے ایک لمحہ بھی نظر انداز نہ کر ، اور میرے تمام کام درست فرما دے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے “ بعض راوی الفاظ میں کچھ اضافہ کرتے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اپنے والد سے کہا ابو جان! میں آپ کو ہر صبح یہ دعا پڑھتے ہوئے سنتا ہوں «اللهم عافني في بدني اللهم عافني في سمعي اللهم عافني في بصري لا إله إلا أنت» ” اے اللہ! تو میرے جسم کو عافیت نصیب کر، اے اللہ! تو میرے کان کو عافیت عطا کر، اے اللہ! تو میری نگاہ کو عافیت سے نواز دے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں “ آپ اسے تین مرتبہ دہراتے ہیں جب صبح کرتے ہیں اور تین مرتبہ جب شام کرتے ہیں؟ ... [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5090]
بعض حضرات نے اس روایت کو حسن الاسناد قرار دیا ہے۔
یہ دعا صحیح حدیث میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا: جو تاکیدی بات میں تمہیں اب کرنے لگا ہوں اسے سننے سے تمہیں کوئی چیز نہ روکے، یا اسے صبح و شام پڑھنے سے کوئی چیز مانع نہ ہو: «يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغيثُ أَصْلِحْ لِي شَأْنِيَ كُلَّهُ وَلاَ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ .»
اے ہمیشہ سے زندہ ذات! اے ہر چیز کو قائم رکھنے والی ذات! میں تجھ سے تیری ہی رحمت کا واسطہ دے کر مدد طلب کرتا ہوں، میرے سارے معاملات سنوار دے، اور مجھے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی میرے اپنے سپرد مت فرما۔
اس روایت کو امام نسائی رحمہ اللہ نے ”السنن الكبرى“ (6/147)، اسی طرح ”عمل اليوم والليلة“ (46) میں اور امام حاکم رحمہ اللہ نے ”المستدرك“ (1/730) میں جبکہ امام بیہقی نے اسے اپنی کتاب: ”الأسماء والصفات“ (112) میں بیان کیا ہے، ان کے علاوہ دیگر محدثین بھی اس دعا کو اپنی کتب حدیث میں بیان کر چکے ہیں۔ کچھ محدثین نے ”صبح و شام اس کو پڑھیں“ کے الفاظ سے روایت کیا ہے۔
علامہ منذری رحمہ اللہ ”الترغيب والترهيب“ (1/313) میں یہ دعا بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ اس کی سند صحیح ہے، جبکہ علامہ البانی رحمہ اللہ ”السلسلة الصحيحة“ (227) میں کہتے ہیں کہ: اس کی سند حسن ہے۔
نیز یہی دعا معمولی سے فرق کے ساتھ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: مصیبت زدہ شخص کی دعا یہ ہے: «اَللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ .»
یا اللہ! میری تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں، اس لیے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی مجھے اپنے آپ کے سپرد مت کرنا اور میرے سارے معاملات سنوار دے، تیرے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ہے۔
اس دعا کو امام احمد: (27898)، اسی طرح ابوداود: (5090) نے اور علامہ البانی نے اسے صحيح الجامع (3388) میں حسن قرار دیا ہے۔
دوم:
یہ دعا اللہ رب العالمین کے لیے عبودیت ثابت کرنے والی عظیم دعاؤں میں شامل ہے، اس دعا میں اللہ تعالیٰ کے اسما و صفات کا وسیلہ بھی شامل ہے، اس میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے زندہ ہے اور دوسروں کو قائم دائم رکھنے والا ہے، وہی رحم کرنے والا اور نہایت مہربان ہے، تمام کے تمام بندے اللہ تعالیٰ کے قیوم ہونے کی وجہ سے مدد اور تائید اسی سے ہی مانگتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی تمام چیزوں سے وسیع رحمت کا واسطہ دے کر غوث طلب کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے امید رکھتے ہیں کہ انہیں دنیا و آخرت میں خو شحالی کے اسباب عطا کر دے۔
اس کے بعد بندہ اپنے معاملات اور حالات کی درستگی کے لیے دعا مانگتے ہوئے کہتا ہے: «أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ» یعنی: اللہ! میرے تمام معاملات چاہے ان کا تعلق میرے گھر، اہل خانہ، پڑوسی، دوست، کارو بار، پڑھائی، ذاتی شخصیت، قلب اور صحت کسی بھی چیز سے ہو، پروردگار! بہتری اور عافیت میرے حصے اور نصیب میں لکھ دے۔ پھر آخر میں «وَلاَ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ» کہہ کر یہ اقرار کیا کہ بندہ تو محض مجسمہ فقر و فاقہ ہے، کامل طور پر اللہ کا محتاج ہے اور یہ سب کچھ محض فضل الہی کی بدولت ہوا، اس لیے نہیں کہ بندے کا حق تھا اور نہ ہی اپنے مقام و مرتبے کی وجہ سے ان چیزوں کا مستحق ہوا ؛ کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ: اے اللہ مجھے میری کمزوری اور ناتو انی کی وجہ سے ایک لمحہ بھر بھی تنہا مت چھوڑ، بلکہ مجھے ہر وقت عافیت سے نوازے رکھ، مجھے قوت و قدرت عطا کر کے میری مدد فرما؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کافی ہو جاتا ہے، اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنے والے کی اللہ تعالیٰ مدد فرماتا ہے، اور دوسری طرف بندہ اللہ تعالیٰ کے بغیر ایک لمحہ بھی نہیں گزار سکتا ہے۔
ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اسی وجہ سے ذلیل و رسوا ہونے والے ذلیل ہوئے اور کامیاب ہونے والے کامیاب ہو گئے ؛ ذلیل شخص کو اپنی حقیقت کا ادراک نہ ہوا اور اپنے من کو پہچان نہ سکا وہ یہ بھول گیا کہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے فقیر، حاجت مند اور ضرورت مند ہے ؛ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سرکش اور نافرمان بن گیا، اور اس پر بدبختی آن پڑی، فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى . أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى﴾
یقیناًً انسان اس وقت سرکش بن جاتا ہے جب وہ یہ سمجھنے لگے کہ اسے کسی کی ضرورت نہیں رہی۔ [العلق: 6، 7]
اسی طرح فرمایا: ﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى . وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى . فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى . وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى . وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى . فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى﴾
جو راہِ الہی میں خرچ کرتا ہے اور تقوی اپناتا ہے، نیز سب سے اچھی بات کی تصدیق بھی کرتا ہے تو ہم اسے آسان راستے پر چلنے کی سہولت دیں گے، جبکہ بخیلی اور لا پرواہی برتنے والا شخص جو کہ سب سے اچھی بات کو جھٹلاتا بھی ہے تو ہم اسے مشکل راستے پر چلنے کی سہولت دیں گے۔ [الليل: 5 - 9]
اس لیے اللہ تعالیٰ کاسب سے کامل بندہ وہی ہے جواللہ تعالیٰ کے سامنے سب سے زیادہ ضرورت، حاجت اور ناتو انی کا اقرار کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے بغیر ایک لمحہ بھی نہیں رہ سکتا۔
اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی دعائے مبارکہ ہوا کرتی تھی کہ: «أَصْلِحْ لِي شَأْنِيَ كُلَّهُ وَلاَ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ وَلَا إِلَى أَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ» یعنی: پروردگار! میرے تمام معاملات سنوار دے، اور مجھے ایک لمحہ کے لیے بھی میرے اپنے یا اپنی کسی بھی مخلوق کے سپرد مت فرما۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہ بھی دعاکیا کرتے تھے کہ: «يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلَى دِيْنِكَ» یعنی: اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو تیرے دین پر ثابت قدم بنا دے۔
نبی صلی اللہ علیہ و سلم یہ دعائیں اس لیے کرتے تھے کہ آپ کو یقین تھا کہ آپ کا دل بھی رحمن کے ہاتھ میں ہے، نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے دل پر کوئی اختیار نہیں ہے، اللہ تعالیٰ اسے جیسے چاہے پھیر سکتا ہے، آپ کا یہ عقیدہ کیوں نہ ہو!؟ آپ ہی اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تلاوت کیا کرتے تھے: «وَلَوْ لَا أَنْ ثَبَّتْنَاكَ لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيلًا .»
اور اگر ہم نے آپ کو ثابت قدم نہ بنایا ہوتا تو قریب تھا کہ آپ ان کی طرف کچھ مائل ہو جاتے۔ [الإسراء: 74]
لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ و سلم بھی بارگاہ الہی میں اپنی ضرورت اور حاجت اسی قدر رکھتے تھے جس قدر آپ کواللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل تھی اور جس قدر آپ کا مقام اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند و بالا تھا۔ [طريق الهجرتين 25-26]
مناوی رحمہ اللہ مصیبت زدہ شخص کے متعلق پہلے ذکر کی گئی دوسری روایت کی شرح میں لکھتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کے لیے وحدانیت اور جلال کی گواہی مکمل حاضر قلبی اور توجہ سے دینے والا شخص واقعی اس قابل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی دنیاوی تکلیف کو زائل کر دے اور آخرت میں رحمت عطا کرتے ہوئے درجات بھی بلند فرمائے۔ [فيض القدير 3/526]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
26441 اردو فتاویٰ