حدیث نمبر: 5086
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ فَأَسْحَرَ ، يَقُولُ : سَمِعَ سَامِعٌ بِحَمْدِ اللَّهِ وَنِعْمَتِهِ وَحُسْنِ بَلَائِهِ عَلَيْنَا ، اللَّهُمَّ صَاحِبْنَا فَأَفْضِلْ عَلَيْنَا ، عَائِذًا بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں ہوتے اور سحر میں اٹھتے تو کہتے «سمع سامع بحمد الله ونعمته وحسن بلائه علينا اللهم صاحبنا فأفضل علينا عائذا بالله من النار» ” سننے والے نے اللہ کی حمد ، اس کی نعمتوں کی شکر گزاری اور اپنے امتحان میں ہماری حسن کارکردگی کو ( دیکھ اور ) سن لیا ، اے اللہ ! تو ہمارے ساتھ رہ ، اور ہمیں اپنے فضل سے نواز ، اور میں جہنم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / أبواب النوم / حدیث: 5086
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2718)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الذکر والدعاء 18 (2718)، (تحفة الأشراف: 12669) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2718

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2718 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی، جب آپ سفر میں ہوتے اور سحری کا وقت ہو جاتا تو فرماتے۔" سننے والے نے سن لیا، اللہ کی حمد وثنا کو اور اس کی ہم پر بہترین عنایت و انعام کو، اے ہمارے رب! ہمارا ساتھی اور محافظ بن اور ہم پر زیادہ انعام فر اور ہم اللہ سے آگ سے پناہ چاہتے ہیں۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6900]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
اسحر: سحری کے وقت بیدار ہوئے، یا سحری کا وقت ہوگیا۔
(2)
سمع سامع: سننے والے یہ کلمات دوسروں کو سنائے، سمع سامع: سننے والا سن لے، ہمارے ان کلمات کا گواہ بن جائے، بلاء: عطیہ واحسان، آزمائش وامتحان، افضل علينا، فضل وکرم سے ہمیں نواز۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2718 سے ماخوذ ہے۔