سنن ابي داود
أبواب النوم— ابواب: سونے سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ باب: صبح کے وقت کیا پڑھے؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ أَبِي أَسِيدٍ الْبَرَّادِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خُبَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ : " خَرَجْنَا فِي لَيْلَةِ مَطَرٍ وَظُلْمَةٍ شَدِيدَةٍ نَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ لَنَا فَأَدْرَكْنَاهُ ، فَقَالَ : أَصَلَّيْتُمْ ؟ فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا , فَقَالَ : قُلْ فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا ، ثُمَّ قَالَ : قُلْ , فَلَمْ أَقُلْ شَيْئًا ، ثُمَّ قَالَ : قُلْ , فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَقُولُ ؟ قَالَ : قُلْ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، حِينَ تُمْسِي وَحِينَ تُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ " .
´عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بارش کی ایک سخت اندھیری رات میں نماز پڑھانے کے لیے تلاش کرنے نکلے ، تو ہم نے آپ کو پا لیا ، آپ نے فرمایا : ” کیا تم لوگوں نے نماز پڑھ لی ؟ “ ہم نے کوئی جواب نہیں دیا ، آپ نے فرمایا : ” کچھ کہو “ اس پر بھی ہم نے کچھ نہیں کہا ، آپ نے پھر فرمایا : ” کچھ کہو “ ( پھر بھی ) ہم نے کچھ نہیں کہا ، پھر آپ نے فرمایا : ” کچھ تو کہو “ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا کہوں ؟ آپ نے فرمایا : «قل هو الله أحد» اور معوذتین تین مرتبہ صبح کے وقت ، اور تین مرتبہ شام کے وقت کہہ لیا کرو تو یہ تمہیں ( ہر طرح کی پریشانیوں سے بچاؤ کے لیے ) کافی ہوں گی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن خبیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اندھیرے کے ساتھ بارش ہوئی تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز پڑھانے کے لیے انتظار کیا، پھر کچھ کہا جس کا مفہوم یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھانے کے لیے نکلے تو آپ نے فرمایا: ” کچھ کہو “، میں نے کہا: کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل هو اللہ أحد» اور ” معوذتین “ (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) صبح و شام تین بار پڑھ لیا کرو، یہ (سورتیں) تمہارے لیے ہر تکلیف و مصیبت میں کافی [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5430]
(2) یہ حدیث مبارکہ ان مذکورہ تینوں سورتوں‘ یعنی سورہ اخلاص‘ سورہ فلق‘ اور سورہ ناس کی فضیلت کی واضح دلیل ہے‘ نیز یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ معوذتین‘ یعنی ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ قرآن کریم کی سورتیں اور اس کا حصہ ہیں۔ یہ محض استعاذے کی دعائیں نہیں۔ مزید برآں امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ ان صورتوں کے ابتدا میں جو لفظ (قل) وارد ہے ‘یہ قرآن ہی کا لفظ ہے اور متواتر ثابت ہے اور اس کا مقام بسم اللہ الرحمٰن الرحم کے بعد ہے۔
(3) ”ہر مصیبت سے“ یعنی جن سے پناہ ممکن ہے ورنہ موت وغیرہ سےبچاؤ تو ممکن نہیں‘ البتہ ہر چیز کے شر سے بچاؤ حاصل ہو گا‘ مثلاً بری موت سے۔ واللہ أعلم
عقبہ بن عامر جہنی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب ایک غزوہ میں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل پکڑے آگے آگے چل رہا تھا تو اس وقت آپ نے فرمایا: ” عقبہ! کہو “، میں آپ کی طرف متوجہ ہوا، پھر آپ نے فرمایا: ” عقبہ! کہو “، میں پھر متوجہ ہوا۔ پھر آپ نے تیسری بار فرمایا تو میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «قل هو اللہ أحد» پھر پوری سورت پڑھی، اس کے بعد «قل أعوذ برب الفلق» پوری پڑھی، میں نے بھی آپ کے سات۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5432]